بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 13/08/2026 |
دارالافتاء
آثار قدیمہ سے ملے ہوئے "بت " فروخت کرنا
سوال
ایک غریب شخص کو آثارقدیمہ میں کہیں سے ایک چھوٹاسا "بت "ملا ہے، جس کی قیمت لاکھوں میں ہے، کیا اس غریب مسلمان شخص کے لیے یہ چیزغیرمذہب والوں پرفروخت کرنا جائز ہے یانہیں؟ اگر وہ فروخت کردے، تو کیا حاصل ہونے والی رقم اس کے لیے حلال ہوگی یا نہیں؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے بتوں کی خرید وفروخت ناجائز اور حرام ہے، حدیث شریف میں ہے کہ" اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خریدو فروخت کو حرام قرار دیا ہے"۔ نیز"بت" آلہ شرک ہے، لہذاغیرمذہب والوں پراس کو فروخت کرنا گناہ کے کام میں تعاون ہے، جو کہ ازروئے شریعت جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص کو آثارِقدیمہ میں "بت"ملا ہو، تو اگرچہ وہ شخص غریب ہو، لیکن پھر بھی اس کے لیے وہ بت فروخت کرنا جائز نہیں، اوراگرفروخت کردے، توحاصل ہونے والی رقم اس کے لیے حرام ہوگی۔
قال الله تعالى:﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ﴾(الحج،30:22)
وأيضا قال:﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (ألمائدة، 5:1)
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما: «أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح، وهو بمكة: إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام. (صحيح البخارى،كتاب البيوع، ج:3، ص:84، رقم الحديث:2236)
والإجماع قائم على أنه: لا يجوز بيع الميتة والأصنام لأنه لا يحل الانتفاع بها ووضع الثمن فيها إضاعة مال، وقد نهى الشارع عن إضاعته. قلت: على هذا التعليل إذا كسرت الأصنام وأمكن الانتفاع برضاضها جاز بيعها عند بعض الشافعية وبعض الحنفية، وكذلك الكلام في الصلبان على هذا التفصيل. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب بيع الميتة والأصنام، ج:12،ص:55)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں