بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مہتمم کے لیے مدرسہ کی اشیا گھر میں استعمال کرنا


سوال

کیا مہتمم کے لیے مدرسہ کی اشیا اپنے  گھر میں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مہتمم مدرسہ کی اشیا میں وکیل اور امین ہوتا ہےاس لیے مدرسہ کی اشیا کو صرف مدرسہ میں ہی استعمال کرےگا۔ صورت مسئولہ کے مطابق مہتمم کے لیے مدرسہ کی اشیا کا اپنے گھر میں استعمال کرنا جائز نہیں۔

 

‌متولي ‌المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، ج:2،ص:462)

‌الوكيل ‌أمين على المال الذي في يده كالمستودع.(درر الحكام في شرح مجلة الاحكام، ج:3، ص:561)

وليس ‌للمودع حق التصرف والاسترباح في الوديعة.(المبسوط للسرخسي، ج:11، ص:122)


فتویٰ نمبر : 5904/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں