بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مہتمم کا مدرسہ کی رقم سے ذاتی گھر بنانا


سوال

کیا مہتمم صاحب کے لیے مدرسہ کی رقم سے اپنے لیے ذاتی گھربنانا جائز ہے یانہیں؟ جبکہ اس کا اپنا ذاتی گھر بھی نہ ہو۔

جواب

شرعی نقطہ نظر سے مدرسہ کی رقم مہتمم کے لیے امانت کے حکم میں ہے، اس لیے مہتمم کے لیے  مدرسہ کی رقم مدرسہ کی ضروریات اور اس کے مصالح میں خرچ کرنا لازم ہے، اور مدرسہ کے مصالح کے علاوہ میں خرچ  کرنا خیانت ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرچہ مہتمم کا ذاتی گھر نہ ہو، لیکن پھر بھی اس  کے لیے مدرسہ کی رقم سے اپنے لیے ذاتی گھر بنانا جائز نہیں۔ تاہم اگر مدرسہ کی رقم سے  مہتمم یا مدرس  کی رہائش کے لیے گھر تعمیر کیا جائے، جبکہ مدرسہ اور طلبا کا مفاد بھی اس میں ہو، تو مہتمم کے لیے اس میں رہائش رکھنے  کی گنجائش ہے،لیکن ایسی صورت میں وہ گھر مدرسہ کی ملکیت ہوگا، مہتمم یا مدرس کو صرف رہائش کا اختیار ہوگا۔

 

الوكيل ‌أمين على المال الذي في يده كالمستودع.(درر الحكام في شرح مجلة الاحكام، ج:3، ص:561)

وليس ‌للمودع حق التصرف والاسترباح في الوديعة.(المبسوط للسرخسي، ج:11، ص:122)

 (قوله: ‌ثم ‌ما ‌هو ‌أقرب ‌لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته  من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة  ۔ ۔ ۔ ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:368)


فتویٰ نمبر : 5905/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں