بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

اولاد کو نمازپڑھنےاورروزہ رکھنے کا حکم دینا


سوال

ہمارے محلے اورگاؤں میں بچے نماز پڑھنے اور روزے رکھنے کے بہت زیادہ پابند ہیں اب معلوم یہ کرنا ہے کہ بچوں کو کس عمر میں روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کی تلقین کرنی چاہیےاور کس عمر میں سختی کرنی چاہیے؟

جواب

شریعت نے نماز اور دیگر احکامِ شرعیہ کی فرضیت کا مدار بلوغت پر رکھا ہے، اور بلوغت کا مدارعلامات بلوغت ظاہر ہونے پر ہے، البتہ اگر بلوغت کی کوئی علامت نہ پائی جائے تو پندرہ سال کی عمر ہونے پر انہیں بالغ تصور کیا جائے گا اوران پر  روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا فرض شمار ہوگا۔ نیزحدیث شریف میں آپﷺنےوالدین کو اس بات کی تاکید کی ہے کہ جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر(یعنی نماز نہ پڑھنے پر)مارو۔ اسی طرح بالغ ہونے سے پہلے اگر بچے میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو اور روزہ رکھنے سے اس کو کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ہو تو اس کو روزہ رکھنے کا حکم دیا جائے، اور دس سال عمر ہونے پر تحمل وبرداشت کے موافق سختی سے روزہ رکھنے کی تاکید کرنی چاہیے، تاکہ اس کی عادت بن جائے اور بالغ ہونے کے بعد اس کے لیے روزہ رکھنے میں دشواری نہ ہو۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر بچےمیں  روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو والدین کو چاہئے کہ سات سال کی عمر میں ان کو نماز پڑھنے اورروزہ رکھنے کی تلقین کریں اور دس سال کی عمر میں  بچے کی برداشت کے مطابق سختی سے حکم کرناچاہیے تاکہ بالغ ہونے تک اس کی عادت بن جائے۔

 

عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مروا ‌أولادكم ‌بالصلاة ‌وهم ‌أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع». (سنن أبي داؤد، كتاب الصلوة، باب متى يؤمر الغلام بالصلاة، رقم الحديث:490، ج:1، ص:185)

(‌قوله: ‌ويؤمر ‌الصبي) ‌أي ‌يأمره وليه أو وصيه والظاهر منه الوجوب وكذا ينهى عن المنكرات ليألف الخير ويترك الشر، ط (قوله: إذا أطاقه) يقال أطاقه وطاقه طوقا إذا قدر عليه والاسم الطاقة كما في القاموس قال ط: وقدر بسبع والمشاهد في صبيان زماننا عدم إطاقتهم الصوم في هذا السن. اهـ. قلت: يختلف ذلك باختلاف الجسم واختلاف الوقت صيفا وشتاء والظاهر أنه يؤمر بقدر الإطاقة إذا لم يطق جميع الشهر (قوله: ويضرب) أي بيد لا بخشبة ولا يجاوز الثلاث كما قيل به في الصلاة وفي أحكام الأسروشني الصبي إذا أفسد صومه لا يقضي؛ لأنه يلحقه في ذلك مشقة بخلاف الصلاة فإنه يؤمر بالإعادة؛ لأنه لا يلحقه مشقة۔ (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصوم باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:409)


فتویٰ نمبر : 10095/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں