بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مطلقہ بہوسےنکاح کرنا


سوال

ایک لڑکے کا کسی لڑکی سے نکاح ہوا، لیکن رخصتی سے قبل ہی اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو کیا اب لڑکے کا باپ اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسےجن عورتوں کے ساتھ نکاح حرام ہے ان میں سے بیٹے کی منکوحہ بھی ہے، چاہے بیٹے نےاس سے ہمبستری کی ہویا نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سسر کے لیے اپنے بیٹے کی بیوی (بہو) سےکسی بھی صورت میں نکاح کرنا جائزنہیں، خواہ بیٹے نے اس کورخصتی سے قبل طلاق دی ہویا بعد۔

 

القسم الثاني:المحرّمات بالصّهرية.....والثالثة: حليلة الابن وابن الابن وابن البنت وإن سفلوا، دخل بها الابن أم لا. (الفتاوى الهندية، الباب الثالث في بيان المحرمات، ج:1، ص:274)

(‌قوله: ‌وزوجة ‌أصله ‌وفرعه) لقوله تعالى {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم} [النساء: 22] وقوله تعالى {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم} [النساء: 23] والحليلة الزوجة وأما حرمة الموطوءة بغير عقد فبدليل آخر وذكر الأصلاب لإسقاط حليلة الابن المتبنى لا لإحلال حليلة الابن رضاعا فإنها تحرم كالنسب بحر وغيره. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:31)


فتویٰ نمبر : 6971/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں