بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

'' فكفارته اطعام عشرۃ مساكين " كا صحيح معنی


سوال

قران مجید میں کفارہ یمین کے بارے میں ہے''   فكفارته اطعام عشرۃ مساكين   "ا س کا مطلب دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، یا دس مسکینوں کا کھانا کھلانا ، مجھے اس بارے میں تشفی بخش جواب چاہیے ،کیونکہ فتاوی جات میں ،میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ،حالانکہ بظاہر آیت سے پتہ چلتا ہے کہ دس مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے یعنی ایک مسکین کو بھی 10 مسکینوں کا کھانا دے سکتے ہیں ایک دن میں، تو  مہربانی کر کے تشفی بخش جواب دیجیے۔

جواب

"اطعام عشرۃ مساکین  "میں  "اطعام" کا معنی ہے'کھانا کھلانا '،اور "اطعام "  مصدر  کی اضافت اپنے مفعول کی طرف ہوئی ہےجب کہ فاعل محذوف ہے اصل میں اس طرح ہے "اطعام  الحانث  عشرۃ مساکین "یعنی حانث ہونے والے کا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا  ،سوال میں جو معنی کیا گیا ہے "دس مساکین کا کھانا کھلانا " یہ معنی درست نہیں کیونکہ یہ اس وقت ہوگا  جب "اطعام " مصدر کی اضافت  فاعل کی طرف ہو تی ،حالانکہ ایسا نہیں ۔بہر حال ایک مسکین کو ایک ہی دن میں دس مساکین کا کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہ ہوگا ، اور آیت کریمہ سے اس پر استدلال کرنا درست نہیں ۔

 

وأنت تعلم أن الشافعية کالحنفية في أنهم يقدرون في الآية ما أشرنا اليه قبل في تفسيرها إلا أن ذلك عندهم قيد للوجوب وإلا فالاستدلال بالآية في غاية الخفاء ما لا يخفى فتدبر . و( إطعام) مصدر مضاف لمفعوله وهو مقدر بحرف وفعل مبنى للفاعل وفاعل المصدر يحذف كثيراً، ولا ضرورة تدعو إلى تقدير الفعل مبنيا للمفعول لأنه مع كونه خلاف الأصل في تقديره خلاف ذكره السمين فالتقدير هنا فكفارته أن يطعم الحانث أو الحالف عشرة مساكين .(روح المعانی ،مبحث فی تفسير قوله تعاله:فكفارتة اطعام عشرة مساكين،ص:10،ج:7،8)

ولو أعطى مسكينا واحدا كله في يوم واحد لا يجزيه إلا عن يومه ذلك وهذا في الإعطاء بدفعة واحدة وإباحة واحدة من غير خلاف أما إذا ملكه بدفعات فقد قيل يجزيه، وقيل: لا يجزيه إلا عن يومه ذلك وهو الصحيح كذا في التبيين۔ ( الفتاوی الهندية،  کتاب الطلاق ،  الباب العاشر فی الکفارة،  ج:1، ص: 541 )


فتویٰ نمبر : 10191/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں