بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تین طلاق معلق کرنے کے بعد اس سے بچنے کا طریقہ


سوال

میری بیوی  کی بہن میرے خلاف غلط زبان استعمال کرتی تھی جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اپنی بیوی کو اس کے گھر جانے سے منع کیا لیکن میری بیوی نہیں مان رہی تھی ایک دن غصہ میں آکر اپنی بیوی کو وائس میسج کیا کہ "اگر تم اپنی بہن کے گھر چلی گئی تو میری طرف سے  تمہیں تین طلاق" دو مہینے گزر گئے میں بہت پریشان ہوں  اب اگر میری بیوی اپنی بہن کے گھر داخل ہوں گی تو تین طلاقیں واقع ہوگی یا نہیں؟اگر واقع ہوتی ہیں  تو خلاصی کی صورت کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق کواگر  کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کی موجودگی میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

صورتِ مسؤلہ میں جب سائل نے یہ الفاظ کہے ہیں کہ "اگر تم اپنی بہن کے گھر چلی گئی تو تجھے تین طلاق "  تو اس کے بعد اگر وہ بہن کے گھر چلی گئی تو شرط پوری ہونے کی وجہ سے اس   پرتین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، تاہم تین طلاق سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ سائل بیوی  کو ایک طلاق بائن دے دے ، اس کے بعد جب  عدت ختم ہو جائے ، تو   وہ اپنی بہن کے گھر میں داخل ہو  اس صورت میں شرط  واقع ہو کر ختم ہوجائے گی،  لیکن اس وقت چونکہ وہ  سائل کے نکاح میں نہیں ہو گی، اس لیے کوئی  طلاق واقع نہ ہو گی ۔ اس کے بعدیہ اُس کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرے پھر اگر وہ بہن کے گھر جائے گی تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ، البتہ آئندہ  اسے صرف دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا ۔

 

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق"۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج:1، ص:420)

"فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها"۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب في اختلاف الزوجين في وجود الشرط،ج:3، ص:355)

 "فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ‌ومضت ‌العدة ‌ثم ‌دخلت ‌الدار ‌تنحل ‌اليمين ‌ولم ‌يقع ‌شيء كذا في الكافي"۔(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، ج:1، ص:416)


فتویٰ نمبر : 6981/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں