بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

وکیل کا مؤکل کو بتائے بغیر بقیہ رقم میں سے اپنے لیے کچھ رقم رکھنا


سوال

کوئی شخص کسی دوست یا رشتہ دار کا کوئی کام کرے، مثلاً: درزی سے کپڑے سلوا کر دے یا کوئی سامان خرید کر دے، یا کوئی چیز فروخت کرے، اور پھر جس کا سامان ہے، اس کو بتائے بغیر کچھ پیسے اپنے لیے رکھ لے، اور اس کو کم پیسے دے، تو کیا اس شخص کے لیے یہ اضافی پیسے رکھنا جائز ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی شخص دوسرے  شخص سے کوئی چیز منگواتا ہو تو اس شخص کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے۔اگروکیل ومؤکل کی باہمی رضامندی سے اجرت طے کی گئی ہو یا وکیل ایسا ہو کہ اجرت کے عوض کام کرنا اس کا معمول ہو ،تو اس کے لیے اجرت کا مطالبہ کرنا  درست ہے،لیکن اگر  وکیل نےعقد وکالت  کے وقت اجرت  کی شرط نہیں لگائی اور نہ  ہی اجرت پر کام کرنا  اس کا معمول ہو تو ایسی صورت میں اس کا کام کرنا تبرع شمار ہو گا ، لہذا اس پر اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔  

صورت مسئولہ کے مطابق اگر وکیل ایسا ہو کہ لوگوں کے لیے اجرت کے عوض کام کرنا اس کا معمول ہو ،تو ایسی صورت میں اس کے لیے خریداری کے بعد  بقیہ رقم سے عرف کے مطابق اجرت وصول کرنا جائز ہےاور اگر اجرت پر کام کرنا اس کا معمول نہ ہو تومذکورہ معاملات طے کرنا اس کی طرف سے تبرع شمار ہو گا، چنانچہ اس  کے لیے مؤکل کی اجازت کے بغیر بقیہ رقم میں سے اپنے لیے کچھ رقم رکھنا جائز نہیں ہوگا،  بلکہ بقیہ پوری رقم واپس کرے گا۔

 

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن یطالب بالأجرة) يستحق في  الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى وفي الفاسدة أجر المثل …..لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة"۔(درر الحکام في شرح مجلةالأحكام، الباب الثالث، الفصل الأول أحکام الوکالة، المادة:1468، إذا شرطت الأجرة في الوكالة، وأوفها الوكيل، ج: 3، ص: 583)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں