بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 11/08/2026 |
دارالافتاء
مسافر امام كا مقيم مقتديوں كو چار ركعت پڑھانا
سوال
ایک مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدیوں نے عشاء کی نماز میں آخر تک اس طرح اقتداء کی کہ امام نے دو رکعت کے بعد سلام پھیرنے کے بجائے نماز جاری رکھی اور چار رکعت نماز پوری کی ،تو کیا مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدیوں کا اس طرح نماز پڑھنا درست ہے؟
جواب
مسافر پر قصر کرنا واجب ہے پوری نماز پڑھنا درست نہیں ،اگر مسافر امام نے ظہر ، عصر اور عشاء کی نماز میں قصداً چار رکعت پڑھائی اور قعدہ اولی بھی کیا تو مسافر امام کا فرض تو ادا ہو جائے گا ،لیکن اس طرح کرنے سے وہ گناہ گار ہوگا ،جبکہ مقیم مقتدیوں کا فرض ادا نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے آخری دو رکعتوں میں نفل پڑھانے والے امام کی اقتداء کی ہے ،جو کہ درست نہیں ہے ،لہذا مقتدیوں پر اس نماز کا اعادہ لازم ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدیوں کا عشاء کی نماز چار رکعت ادا کرنا شرعاً درست نہیں ،لہذا مقتدیوں پر اس نماز کا اعادہ لاز م ہے ۔
(قوله وجوبا) فيكره الإتمام عندنا حتى روي عن أبي حنيفة أنه قال: من أتم الصلاة فقد أساء وخالف السنة شرح المنية.(رد المحتار علي الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر،ج:2، ص:603)
(فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر،ج:2، ص:609)
فلو أتم المقيمون صلاتهم معه فسدت لأنه اقتداء المفترض بالمتنفل.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:612)
(وسجود بعاجز عنهما) لبناء القوي على الضعيف (و) لا (مفترض بمتنفل وبمفترض فرضا آخر) لان اتحاد الصلاتين شرط عندنا.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الامامة،ج:2، ص:324)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں