بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مقیم کا مسافر امام کی نیابت کرنے میں مسافر مقتدی کی نماز کا طریقہ


سوال

 مسافروں کی جماعت میں امام کو حدث لاحق ہو جائے اور مقیم اس کی نیابت کرے تو کیا مسافروں کو اتمام کرنا ہو گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  مسافر امام کو حدث لاحق ہونے کے بعد  جس طرح  مسافر  مقتدی کو خلیفہ بنا یا جا سکتا ہے اسی طرح مقیم مقتدی کو بھی اپنا خلیفہ بنانا جائز ہے۔اور مقیم خلیفہ  جب دو رکعت پوری کر لے تو مسافر مقتدیوں کی نماز دو رکعت پر پوری ہو  جائے گی  ، چنانچہ وہ سلام پھیرنے کے لئے کسی  مسافر  مقتدی کو خلیفہ  بنائے گا،اور  مسافر خلیفہ سلام پھیرے گا اور اس کی اقتدا میں مسافر مقتدی بھی سلام پھیریں گے ،جبکہ مقیم مقتدی  اس مقیم  خلیفہ  کی اقتدا میں اپنی باقی نماز پوری کریں گے۔

 

(امام أحدث و هو مسافر و خلفه مقيمون و مسافرون فقدم مقيما صح ذلك)لأن المقيم شريكه في هذه الصلوة ولا يتغير به فرض المسافرين۔۔۔ثم علي الثاني أن يتم بهم صلاة المسافرين لأنه خليفة الأول فيأتي بما كان علي الأول فإذا قعد قدر التشهد قدم مسافرا ليسلم بهم؛ لأنه عاجز عن التسليم بنفسه لبقاء البناء عليه، ثم يقوم هو مع المقيمين فيتمون صلاتهم وحدانا، هكذا "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين صلى بعرفات: أتموا يا أهل مكة صلاتكم، فإنا قوم سفر"۔(کتاب المبسوط،کتاب الصلاۃ،ج:1ص:179)


فتویٰ نمبر : 10081/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں