بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسافر امام کا نمازکےبعد اعلان کرنا


سوال

مسافر امام کب اعلان کریگا کہ میں مسافر ہوں تم اپنی نمازیں پوری کرو؟ اگر  امام نماز کے بعد اعلان کرے تو  کیا اس سے تعلیم من الغیر  لازم آتا ہے جس سے نماز فاسد ہوتی ہے؟ وضاحت فرمائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ صحت جماعت کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ  یہ بھی ضروری ہے کہ باجماعت نماز میں امام کے مقیم یا مسافر ہونے کا علم بھی  ہو۔  لیکن یہ جاننا  ابتداءِ نماز میں شرط نہیں۔ لہذا اگر نماز کے دوران  یا بعد میں بھی معلوم  ہو جائے، تو نماز درست  ہو جائے گی۔ اسی وجہ سے  مسافر امام  کے ليے مقتدیوں کو آگاہ کرنے کى نيت سے سلام پھیرنے کے بعد یہ الفاظ کہنا مستحب ہےکہ" مقیم لوگ اپنی نماز پوری کر لیں، میں  مسافر ہوں ۔" جب فتح  مکہ ہوا تو آپﷺ نے مکۃ المکرمہ میں نماز پڑھائی اور آخر میں کہا کہ"اے اہل مکہ، اپنی نمازیں پوری کہ لو کیونکہ ہم مسافر ہیں"

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر امام مسافر ہو تو اس کو چاہیے کہ سلام پھیرنے کے بعد  مقتدیوں سے کہے کہ مقیم اپنی نماز پوری کرلیں، نیز اس  عمل سے تعلیم من الغیر لازم نہیں آتی اس لیے مقتدیوں کی نماز فاسد نہیں ہوتی۔

 

عن عمران بن حصين قال: لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة أقام بها ثمان عشرة ليلة يصلي بأهل مكة ركعتين إلا المغرب، ثم يقول: يا أهل مكة ‌أتموا ‌صلاتكم فإنا قوم سفر.(المعجم الكبير، باب العين، رقم الحديث:517، ج:18، ص:209)

إذا اقتدى بالإمام لا يدري أمسافر هو أم مقيم لا يصح لأن العلم بحال الإمام شرط الأداء بجماعة۔ لا أنه شرط في الابتداء لما في المبسوط رجل صلى الظهر بالقوم بقرية أو مصر ركعتين وهم لا يدرون أمسافر هو أم مقيم فصلاتهم فاسدة سواء كانوا مقيمين أم مسافرين لأن الظاهر من حال من في موضع الإقامة أنه مقيم والبناء على الظاهر واجب حتى يتبين خلافه فإن سألوه فأخبرهم  أنه مسافر جازت صلاتهم۔"(البحرالرائق، باب صلوة المسافر،ج:2،ص:238)


فتویٰ نمبر : 10107/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں