بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

قسط وار خرید وفروخت میں ایڈوانس رقم لینے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص نقد اور قسطوں پرخرید و  فروخت کرتا ہے ، کیایہ کاروبار جائز ہے یا  نہیں ؟ دوسرا یہ کہ اگرایک چیز کی اصل قیمت "20000" روپے ہےتو اس پر ہم%30منافع لیتے ہیں اور گاہک سے 5000 ایڈوانس رقم لیتے ہیں،  میرا سوال یہ ہے کہ اب ہم  "20000"روپے پرمنافع لیں گے یا "15000" روپے پر منافع لیں گے کیونکہ 5000 تو ہم نے کسٹمر سے ایڈوانس لے لیے تھے ۔

جواب

واضح رہے کہ  ہر شخص  کے  لیے اپنی مملوکہ  چیز  کو  اصل قیمت میں کمی زیادتی کے ساتھ نقد  اور ادھار دونوں طرح  فروخت کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اور جس طرح ادھار پر سامان  فروخت کرنے والا اپنے سامان کی قیمت یک مشت وصول کرسکتا ہے ، اسی  طرح اس کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے  کہ وہ اس رقم کو قسط وار وصول کرے۔

قسطوں پر خرید وفروخت میں  درج ذیل  شرائط کا لحاظ  اور رعایت کرنا ضروری ہے:

1: دائیگی کی مدت متعین ہو۔

2: ۔ قسط کی رقم متعین ہو۔

3: عقد کے وقت مجموعی قیمت مقرر ہو ۔

 4: معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار۔

5: کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس   سے اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے۔

6: وقت سے پہلے ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی عقد میں مشروط نہ ہو ، ۔

ان  شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خریدوفروخت کرنا جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ  میں  بائع اور مشتری اسی مجلس عقد میں جس قیمت پر بھی رضامندی کا اظہار کرلیں تو بائع کے لیے وہ قیمت لینا جائز ہے چاہے20000پر٪30 منافع لگا کرمجموعی قیمت  طے ہو جائے  یا 15000پر باہم اتفاق  سے دونوں  صورتیں جائز ہیں ۔

 

عن أبي هريرة قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة" وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: "حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح" والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: ‌أبيعك ‌هذا ‌الثوب ‌بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما ۔"(جامع الترمذی ،باب ما جاءفی النهي عن بيتعتيں فى بيعة،رقم الحديث 1231)

"‌ويجوز ‌البيع ‌بثمن ‌حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما".... ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها.( الهداية،كتاب البيوع،باب كيفيةانعقادالبيع،ج:٣،ص:٢١)

وإن ‌شرط ‌الأجل ‌في ‌الثمن والثمن دين فإن كان الأجل معلوما جاز البيع۔(الفتاوى الهندية،كتا ب البيوع،الباب العا شر فى البيع والتى لا تفسد،ج4،ص،143)


فتویٰ نمبر : 3577/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں