بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

عمرہ کاطواف بغیر وضو کرنا


سوال

میری والدہ ماموں کے ساتھ 7 سال پہلے عمرہ کے لیے گئی تھی عمرے میں طواف شروع کرنے سے پہلے میری والدہ کا پاؤں کسی چیز کے ساتھ لگا اور  بہت زیادہ خون بہنے لگا تو میری والدہ نے اس كو كپڑے سےصاف کیا اور بے وضو کی حالت میں طواف کیا پھر اپنے وطن آگئی، تو کیا بغیر وضوکے  طواف کرنے سے دم واجب ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ طواف کےلیے وضو کرنا ضروری ہے، لہذا اگر کسی نے عمرہ کا طواف وضو کے بغیر کیا اور احرام سے نکل گیا تو جب تک وہ مکہ مکرمہ میں ہے،اس کا اعادہ  کرے اور  اگر طواف کا اعادہ نہیں کیا اور اپنے وطن لوٹ گیا  تو ترکِ واجب سے اس پر دم واجب ہوگا،جو حدود حرم میں ذبح کیاجائےگا۔

صورت مسئولہ میں  سائل کی والدہ پر بے وضو طواف کرنے کی وجہ  سےدم  واجب ہے، جس کو حدود حرم میں ذبح کرنا لازم ہے۔

 

"إذا طاف للعمرة محدثا أو جنبا فما دام بمكة يعيد الطواف فإن رجع إلى أهله ولم يعد ففي المحدث تلزمه الشاة وفي الجنب تكفيه الشاة استحسانا هكذا في المحيط"۔(الفتاوى الهندية،كتاب المناسك، باب الجنايات، الفصل الخامس في الطواف والسعي والرمل ورمي الجمار، ج:1، ص:272)


فتویٰ نمبر : 10088/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں