بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کھانا کھانے اور پانی پینے کے وقت سر ڈھانکنا


سوال

جس طرح بیت الخلاءجانے کے آداب میں لکھا ہے کہ سر ڈھانپ کر بیت الخلاء جانا مسنون ہے، کیا اسی طرح  کھانا کھاتے وقت یا پانی پیتے وقت بھی سر ڈھانکنامسنون ہے ؟کیونکہ ہمارے ہاں لوگ یہ اہتمام کرتے ہیں کہ پانی پیتے وقت اگر ٹوپی نہ ہو تو ایک ہاتھ سر پر رکھ لیتے ہیں جس سے ہم سمجھتے ہیں کہ کھانا کھاتے وقت یا پانی پیتے وقت سر ڈھانکنا مسنون ہے ۔

جواب

کھانا کھاتے وقت یا پانی پیتےوقت سر ڈھانکنے کا مسنون ہونا کسی حدیث سے ثابت نہیں اس لیے فقہائے کرام نے  ننگے سر کھانے پینے کو مباح لکھا ہے، اس لیے کھاتے پیتے وقت سر ڈھانکنا یا ننگے سر کھانا  پینا دونوں بلا کراہت جائز ہے۔

 

"لابأس بالأکل متکئًا، أو مکشوف الرأس في المختار"۔ (ردالمحتار على الدر المختار، کتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:490)

"ولابأس بالأکل مکشوف الرأس کذا في الخلاصة"۔ (الفتاوى الهندية، الباب الحادي عشر في الکراهة في الأکل و ما یتصل به، ج:5، ص: 337)

"والأكل مكشوف الرأس۔۔۔فيه روايتان والمختار أنه لا يكره"۔(البحر الرائق، كتاب الكراهية،فصل فى الأكل والشرب، ج:8، ص:338)


فتویٰ نمبر : 5899/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں