بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مسافر شخص کو زکوۃ دینا


سوال

ہمارے علاقے میں ایسے مسافر آتے ہیں جو کہ مالدار ہوتے ہیں لیکن سفر کے دوران ان کے پاس پیسے ختم ہوجاتے ہیں تو کیا ہم ایسے  مسافر شخص کو زکوة دے سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ  مسافر شخص اگراپنے وطن میں مالدار ہو لیکن حالت سفر میں محتاج ہوجائے تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ کسی سے قرض لے کر ضرورت پوری کرلے، لیکن اگر قرض  لینے کی کوئی صورت نہ بنےاور اپنے مال تک رسائی کا بھی کوئی طریقہ ممکن نہ ہو، تو ایسے مسافر کو بقدرِ ضرورت زکوۃ دینا اور اس کا زکوۃ لینا جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر مسافرشخص کے  پاس سفر کےدوران پیسے ختم ہوجائیں،اور اس کی اپنے مال تک رسائی نہ ہوسکے،تو ایسے مسافر کو بقدرِ ضرورت  زکوۃ دینا جائز ہے۔

 

قال الله تعالىٰ:﴿إنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ(التوبة: 60)

"ومنها ابن السبیل: وهو الغریب المنقطع عن ماله، کذا في البدائع، جاز الأخذ من الزکوۃ قدر حاجته ولم یحل له أن یأخذ أکثر من حاجته"۔(الفتاوی الھندیه، كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1،ص:188)


فتویٰ نمبر : 10087/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں