بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امانت کی حفاظت کرنے پر اجرت لینا


سوال

اگر کوئی شخص کسی کی امانت اپنے پاس رکھے اور اس امانت کی حفاظت کرنے پر امانت رکھوانے والے سے اجرت مقرر کرکے وصول کرے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟نیز اگر امین نے امانت کی حفاظت نہیں کی تو کیا اس پر تاوان لازم ہوگا؟

جواب

امین کے لیےامانت کی حفاظت کرنے پر اجرت مقرر کرکے اجرت لینا جائز ہے اور بلا تعدی وغفلت امانت ضائع ہونے کی صورت میں امین ضامن نہیں ہوگا، البتہ اگر امین کی طرف سے امانت کی حفاظت میں غفلت و کوتاہی ہویا اس میں تعدی (زیادتی) کرنے کی وجہ سے امانت ضائع ہوجائے، تو امین پر امانت کا تاوان ادا کرنا لازم ہوگا۔

 

"الوديعة أمانة بيد المستودع بناء عليه إذا هلكت أو فقدت بدون صنع المستودع وتعديه وتقصيره في الحفظ لا يلزم الضمان. فقط إذا أودعت بأجرة لأجل الحفظ وهلكت بسبب ممكن التحرز كالسرقة تكون مضمونة"۔(ّدررالحكام شرح مجلة الأحکام، الفصل الثاني في أحكام الوديعة،مادة:777، ج:2، ص:262)

"المودع إذا شرط الأجرللمودع على حفظ الوديعة صح"۔(خلاصة الفتاوى،كتاب الوديعة،الفصل السادس في المتفرقات،ج:4، ص:289)


فتویٰ نمبر : 3580/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں