بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں کسی جگہ کو مختص کرنا


سوال

کیا مسجد میں جگہ مختص کرنے کی اجازت ہے؟ جیسے  کچھ لوگ فجر کی نماز سے ایک گھنٹہ پہلے آجاتے ہیں، لیکن زیادہ تر وقت وہاں بیٹھے نہیں رہتے  وہ تھکاوٹ کی وجہ سے دوسری جگہوں پر کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں، اور قرآن مجید پڑھتے ہیں، تاہم نماز باجماعت کے لیے جگہ محفوظ رکھتے ہیں، اگر کوئی دوسرا شخص جگہ خالی پاکر وہاں نماز پڑھ لے، تو اس میں کوئی حرج تو نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص مسجد میں پہلے آکر  کسی جگہ بیٹھے بغیر اپنا رومال یا مصلی وغیرہ اپنے لیے جگہ متعین کرنے کی نیت سے رکھ کر کسی اور غرض (مثلاً: وضو کرنے) کے لیے چلا جائے، تو شرعاً اس کا یہ عمل ناجائز ہے، اس طرح کرنے سے وہ شخص اس جگہ کا حق دار نہیں رہے گا،البتہ اگر کوئی شخص مسجد میں آکر پہلے  کسی جگہ بیٹھ جائے اور پھر کسی غرض سے دوسری جگہ چلا جائے  ، اور پھر واپس آنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس صورت میں وہ شخص اس جگہ کا حق دار ہوگا۔

صور ت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص نماز سے ایک گھنٹہ پہلے مسجد میں آکر کسی جگہ پر بیٹھ جاتا ہے اور پھر تھکاوٹ وغیرہ کی وجہ سے کسی اور جگہ کرسی پر بیٹھ جائے لیکن  اپنی جگہ متعین کرنے کی غرض سے مصلی یا رومال وغیرہ بچھا دیا ہو ، چنانچہ  جماعت کے وقت اس متعین جگہ پر آکر نماز پڑھتا ہو، تو اس کا یہ عمل درست ہے۔  

 

عن أبي هريرة ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إذا قام أحدكم، وفي حديث أبي عوانة " من قام من مجلسه ثم رجع إليه فهو أحق به".(سنن أبي داؤد، كتاب الصلاة،باب إذاقام من مجلسه،ثم عاد،فهو أحق به،رقم الحديث:2179)

"وفي السغناقي: ويكره للإنسان أن يخص لنفسه مكانًا في المسجد يصلي فيه".(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الصلوٰة،باب ما يكره للمصلي،وما لا يكره،ج:1، ص:570)

ويحرم فيه السؤال، ويكره الإعطاء مطلقا... وتخصيص مكان لنفسه، وليس له إزعاج غيره منه ولو مدرسا... (قوله: وتخصيص مكان لنفسه): لأنه يخل بالخشوع،كذا في القنية: أي لأنه إذا اعتاده ثم صلى في غيره يبقى باله مشغولا بالأول بخلاف ما إذا لم يألف مكانا معينا... (قوله: وليس له إلخ) قال في القنية: له في المسجد موضع معين يواظب عليه وقد شغله غيره. قال الأوزاعي: له أن يزعجه، وليس له ذلك عندنا اه. أي؛ لأن المسجد ليس ملكا لأحد، بحر عن النهاية.

قلت: ينبغي تقييده بما إذا لم يقم عنه على نية العود بلا مهلة، كما لو قام للوضوء مثلا ولا سيما إذا وضع فيه ثوبه لتحقق سبق يده، وفي شرح السير الكبير للسرخسي: وكذا كل ما يكون المسلمون فيه سواء كالنزول في الرباطات والجلوس في المساجد للصلاة والنزول بمنى أو عرفات للحج.... فهو أحق، وليس للأخر أن يحوله.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة،وما يكره فيها،فروع أفضل المسجد،ج: 1، ص:662)

وهذا كمن بسط بساطا أو مصلى أي سجادة في المسجد أو المجلس فإن كان واسعا لا يصلي ولا يجلس عليه غيره وإن كان المكان ضيقا جاز لغيره أن يرفع البساط ويصلي في ذلك المكان أو يجلس.(حاشية الطحطاوي على مراقى الفلاح،كتاب الصلاة، فصل في حملها،ودفنها، ص:610)


فتویٰ نمبر : 10090/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں