بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

دوران ڈیوٹی نفلی اعمال کرنا


سوال

ہمارے ادارے میں بعض ملازمین کام کے اوقات میں قرآن مجید کی تلاوت، ذکر و اذکار، اور نفل نمازیں پڑھتے ہیں، جس کی وجہ سے  ان کا کام پورا نہیں ہوتا ہے، اور کام کا حرج ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ کام کے اوقات میں نفلی اعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کام کے اوقات میں فرض، واجب اور سنت مؤکدہ نماز کے علاوہ کوئی  نفلی عمل  مثلاً قرآن مجید کی تلاوت، ذکر و اذکار یا نفل نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  ملازمین کے لیے کام کے اوقات میں قرآن مجید کی تلاوت، ذکر و اذکار، اور نفل نمازیں  پڑھنا جائز نہیں ۔

 

(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، مبحث الأجير الخاص، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ج:6، ص:70)


فتویٰ نمبر : 3581/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں