بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دوران عدت سابق شوہر کی خدمت کرنا


سوال

جومطلقہ عورت عدت اپنے سابق شوہر اور چھوٹے بچوں کے ساتھ شوہر کے گھر میں گذار رہی ہو ،تو کیا اس پر سابق شوہر کی خدمت لازم ہے اور جو چھوٹے بچے ہیں ان کی  پرورش اور خدمت  کا حق  ماں کو حاصل ہےیا باپ کو؟

جواب

طلاق کے بعد دورانِ عدت مطلقہ بیوی پر سابق شوہر کی خدمت کرنا لازم نہیں ،البتہ عدت کے دوران بیوی کا نان و نفقہ اور رہائش کا بندوبست شوہر پر لازم ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق مطلقہ بیوی پر دوران عدت اپنے سابق  شوہر کی  خدمت لازم نہیں اورجہاں تک بچوں کی پرورش اور خدمت کا تعلق ہے تو شریعت نے چھوٹے بچوں کی پرورش کا حق ماں کو دیا ہے، لہذا طلاق کے بعد بھی ماں لڑکے کو سات برس کی عمر تک اور لڑکی کو نو برس کی عمر تک اپنے پاس رکھ سکتی ہے،البتہ اگر اس نے کسی ایسے شخص سے دوسری شادی کرلی جو بچوں کے لیے نامحرم ہوتو پھر اس کا یہ حق ساقط ہو جائے گا۔

 

المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا، حاملا كانت المرأة، أو لم تكن.(الفتاوى الهندية، الباب السابع عشر فى النفقات،وفيه ستة فصول، الفصل الثالث في  نفقة المعتدة، ج:1، ص:557)

 (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب...(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية... (وغيرهما أحق بها حتى تشتهي) وقدر بتسع، وبه يفتى.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:566)


فتویٰ نمبر : 6967/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں