بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/07/2026

دارالافتاء

 

دوا سازکمپنی کے ایجنٹ کا سیمپل کی دوائی اپنے لیےفروخت کرنا


سوال

میری ایک بہن ہے اور وہ میڈیکل ریپ کی جاب کرتی ہے۔ کمپنی کی طرف سے انہیں سیمپل   کی دوائی دی جاتی ہے کہ انہیں ڈاکٹروں کو چیک اپ یعنی کمپنی کی مشہوری کیلئے دیا جائے۔ تو میری بہن وہ دوائی اپنے لیے فروخت کرتی ہے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نا جائز ؟

جواب

واضح رہے کہ وکیل کے پاس مؤکل کا مال امانت ہوتا ہے جسے مؤکل کی اجازت کے مطابق استعمال کرنا وکیل پر لازم ہوتا ہے۔ مؤکل کی اجازت کے بغیر اس میں کسی قسم کا تصرف وکیل کے لیے جائز نہیں۔  لہذا سیمپل(نمونہ) کی جو  ادویات میڈیکل ریپ کو کمپنی کی جانب سے ڈاکٹروں تک پہنچانے کے لیے دی جاتی ہیں،وہ کمپنی کی امانت ہے جو ڈاکٹروں تک پہنچانا ضروری ہے،ان ادویات کو  فروخت کردینا شرعا جائز نہیں ، اور نہ ہی اس کی آمدنی حلال ہے۔

 

والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة.(شرح المجلة، الكتاب الحادی عشر: في الوکالة، ‌‌الباب الثالث: في بيان أحكام الوكالة، ج:4، ص:432)

لايجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته۔(رد المحتار علی الدر المختار، مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير بدون إذن صريح، ج:9، ص:291)


فتویٰ نمبر : 5903/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں