بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورت کا طلاق کے سینتالیس یا اڑتالیس دن بعددوسری جگہ نکاح کرنا


سوال

ایک خاتون نے طلاق کے سینتالیس(47) یا اڑتالیس(48) دن بعد دوسری جگہ نکاح کرلیا اوراس کا دعوی یہ ہے کہ اس کی عدت مکمل ہوچکی ہے۔ کیا شرعا اس کا نکاح معتبر ہوگا یانہیں؟

جواب

اگرکوئی مطلقہ عورت دعوی کرے کہ اس کی عدت پوری ہوگئی ہے، اور طلاق کے بعد اتنے دن گزرچکے ہوں، جن میں عدت مکمل ہونے کا احتمال ہو، توعورت کے قول کا اعتبار کیا جائے گا۔ اورصاحبین کے ہاں مطلقہ کی عدت کی کم سے کم مدت انتالیس (39)دن ہے، وہ اس طور پر کہ طلاق کے فوراً بعد حیض شروع ہوجائے، جو کم سے کم مدت یعنی تین دن تک رہے،پھر ایام طہر شروع ہوجائیں اور کم سے کم مدت یعنی  پندرہ (15) دن تک جاری رہیں، پھرتین (3) دن حیض، پھر پندرہ (15) دن طہراورپھرتین (3) دن حیض ہوجائے۔ اس حساب سے ایک مطلقہ عورت کی عدت کی کم سے کم  مدت انتالیس (39) دن ہوسکتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی خاتون نے طلاق کے سینتالیس (47) یا اڑتالیس (48) دن بعد دوسری جگہ  نکاح کیا ہو، اور اس کا دعوی ہو کہ میری عدت مکمل ہوچکی ہے، توچونکہ صاحبین کے ہاں اتنی مدت میں عدت مکمل ہونے کا احتمال موجودہے، لہذا اس عورت کے قول کا اعتبار کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کا دوسری جگہ نکاح شرعا معتبر سمجھا جائے گا۔

 

(‌قالت: ‌مضت ‌عدتي والمدة تحتمله وكذبها الزوج قبل قولها مع حلفها وإلا) تحتمله المدة (لا).(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الطلاق، ج:3،ص:523)

وعندهما أقل مدة تصدق فيها الحرة تسعة وثلاثون يوما، ثلاث حيض بتسعة أيام، وطهران بثلاثين.(ردالمحتار مع الدر المختار،كتاب الطلاق، ج:3،ص:524)

وتخريج قول أبي يوسف، ومحمد أنه يبدأ بالحيض ثلاثة أيام ثم بالطهر خمسة عشر يوما ثم بالحيض ثلاثة أيام ثم بالطهر خمسة عشر يوما ثم بالحيض ثلاثة أيام فذلك تسعة، وثلاثون يوما وجه قولهما أن المرأة أمينة في هذا الباب، والأمين يصدق ما أمكن، وأمكن تصديقها ههنا بأن يحكم بالطلاق في آخر الطهر فيبدأ بالعدة من الحيض فيعتبر أقله، وذلك ثلاثة، ثم أقل الطهر، وهو خمسة عشر يوما ثم أقل الحيض ثم أقل الطهر ثم أقل الحيض فتكون الجملة تسعة، وثلاثين يوما. (بدائع الصنائع، كتاب الطلاق، فصل فيما يعرف به انقضاء العدة، ج:3،ص:199،198)


فتویٰ نمبر : 6977/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں