بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

معاہدے کی خلاف ورزی کرنا


سوال

 مدرسے کے قوانین اور قواعد توڑنے والے طلباء کے لئے مدرسے کی اشیاء استعمال کرنا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ میں معاہدے کی پاسداری کی بڑی تاکید آئی ہے ،حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا  وہ مؤمن  نہیں ہو سکتا ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق   جب طلباء کرام نے  مدرسہ کے  قوانین  اور قواعد وضوابط ماننے اور ان پر عمل کرنے کا معاہدہ  کیا ہو  تو اس کی پاسداری کرنا  لازم ہے  اگر  کوئی طالب علم  اس کی  خلاف  ورزی کرتا ہے  تو انتظامیہ کو  یہ حق حاصل ہے کہ بطور تعزیراس  پر  مدرسے کی  اشیاء  استعمال کرنے کی   پابندی لگائے  ۔

 

قال الله تعالى: وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولاً.(الإسراء:34)

{وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ} سواءٌ جرى بينكم وبين ربِّكم أو بينكم وبين غيرِكم من الناس والإيفاءُ بالعهد والوفاءُ به هو القيامُ بمقتضاه والمحافظةُ عليه۔( تفسير القرآن العظيم لابن کثیر،الإسراء:34،ج:5،ص:68)

عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم،لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له.(المعجم الكبير للطبراني،ج:10،ص:227)

 عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" المسلمون على شروطهم"(السنن الصغیر للبيهقي،ج:2،ص:307)

 قال ابن عابدين :وزاد بعض المتأخرين أن الحد مختص بالإمام ‌والتعزير يفعله الزوج والمولى وكل من رأى أحدا يباشر المعصية۔(ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب الحدود ،مطلب في  التعزير بالمال :ج6،ص106)


فتویٰ نمبر : 5932/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں