بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قضا نماز کی ادائیگی اور نیت کا طریقہ


سوال

اگر کسی شخص سےکئی سالوں کی نمازیں قضا ہوچکی ہو ں، جن کی تعداد اس کومعلوم نہ ہو، اوروہ ان نمازوں کی قضا لانا چاہتا ہو۔ تووہ کس طریقے سے اور کتنی نمازوں کی قضا لائے  گا؟ اورقضا لاتے وقت نیت کا طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

اگر کسی شخص سے نمازیں قضا ہوجائیں ،چاہے کم ہوں  یا زیادہ، جان بوجھ کر ہو یا بھول کر، عذر کی وجہ سے ہو یا سستی و غفلت کی وجہ سے  ان  کی قضا لانا ضروری ہے۔ اگرقضا شدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو، تو تمام قضا نمازوں کا اندازہ لگائے کہ اتنے عرصے میں مجھ سے کتنی تعداد میں نمازیں قضا ہوچکی ہیں، اوراحتیاطا غالب گمان کا اعتبار کرے، پھر اس کی قضا پڑھنا شروع کرے اورنیت اس طرح کرے کہ مثلاً مجھ سے فجر کی جتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے سب سے پہلی نماز کی قضا ادا کررہاہوں۔ بقیہ نمازوں میں بھی اسی طرح نیت کرتا رہے۔

 

كل صلاة فاتت عن الوقت بعد وجوبها فيه يلزمه قضاؤها ‌سواء ‌ترك ‌عمدا ‌أو ‌سهوا أو بسبب نوم وسواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، ج:1، ص:121)

من لا يدري ‌كمية ‌الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نورالإيضاح، كتاب الصلاة، باب صلاة الفوائت، ص:448)

(قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، ج:2، ص:769)


فتویٰ نمبر : 10077/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں