بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

‌دیسی مرغیوں کے انڈوں پر زکوۃ


سوال

ہم نے اپنے گھر میں تین ہزار دیسی مرغیاں پالی رکھی ہیں جو روزانہ کے حساب سے تقریبا تین ہزار انڈے دیتی ہیں، اور بہت منافع بخش کاروبار چل رہاہے، ابھی سال پورا ہونے کو ہے تو پوچھنا یہ ہےکہ اب ہم  صرف انڈوں کی رقم سے زکوۃ ادا کرےگےیا مرغیوں کی قیمت سے بھی، جبکہ مرغیاں فروخت کے لیے نہیں ہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے سونے، چاندی اور کرنسی کے علاوہ دیگر اشیامیں زکوۃ اس وقت واجب ہوجاتی ہے جب وہ تجارت کی غرض سے  ہوں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جومرغیاں فروخت کی غرض سے نہیں پالی گئی ہیں، بلکہ انڈے حاصل کرکے انڈوں کو فروخت کرنے کی غرض سے پالی گئی ہیں، تو ان مرغیوں  کی قیمت پر زکوۃ واجب نہیں، البتہ انڈوں کی مالیت زکوۃ کے نصاب کو پہنچ جائے، تواس میں زکوۃ واجب ہوگی۔

 

الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الفصل الثاني في العروض، ج:1، ص:189)


فتویٰ نمبر : 10078/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں