بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

فرض قراءت پڑھنے کے بعد تلاوت میں فحش غلطی


سوال

اگر کسی سے فرض قراءت پڑھنے کے بعد تلاوت میں ایسی فحش غلطی ہوجائے جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہو تو کیا اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے یا فرض قراءت پوری ہونے کے بعد ایسی فحش غلطی نماز کےلیے مضر نہیں؟

جواب

نماز میں فرض قراءت کی مقدار ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات ہیں اور اس سے زائد قراءت کرنا سنت ہے، لیکن یہ سنت قراءت شروع کرنے سے فرض کے ساتھ ملحق ہوجاتی ہے، اس لیے اگر اس میں بھی فحش غلطی ہوجائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

 

فإن الفرض منها آية والثلاث واجبة والزائد سنة، وما ذاك إلا بالنظر إلى ما قبل الوقوع، بدليل أنه لو قرأ القرآن كله في ركعة ‌يقع ‌الكل ‌فرضا، وكذا لو أطال القيام أو الركوع أو السجود۔ ( رد المحتار،  ‌‌باب قضاء الفوائت، مطلب في تعريف الإعادة، ج:  2، ص: 522)


فتویٰ نمبر : 10074/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں