بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک سے زائد گھروں کے مالک کا مستحق زکوۃ ہونا


سوال

آدمی کا ایک گھر ہے جس میں وہ رہائش پذیر ہے، دوسرا گھر کرایہ پردیا ہے اس پراس کا گزران ہے،تیسرا گھراپنے وطن میں ہے۔ خوشی،غم اور عیدین میں وہاں جانا ضروری ہوتا ہے بقدر ضرورت وہاں سکونت اختیار کرتا ہے کیونکہ کسی اور کے گھر میں نہیں رہ سکتا، ایک پلاٹ ہے جس کی قیمت دس لاکھ ہےلیکن اس پر دس لاکھ کا قرضہ ہے، نقد رقم نہیں ہے جو تنخواہ ملتی ہے وہ مہینہ کے آخر تک خرچ ہوجاتی ہے۔ تو کیا یہ شخص مستحق زکوۃ ہے یا نہیں اوراس پرقربانی واجب ہے یا نہیں؟

جواب

جس شخص کی ملکیت میں رہائش سے زائد مکان وغیرہ ہو، لیکن وہ اس نے کرایہ پردیا ہواوراپنی ضروریات میں خرچ کرتا ہو تو یہ بھی ضروریات ِاصلیہ میں شمار ہوگا۔ جبکہ ہرانسان کی ضروریات اور حاجات عموماً دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اورراجح قول کے مطابق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اشیاء کو جائز طریقے سے اپنی ملکیت میں رکھنےکی کوئی خاص تعداد شریعت کی طرف سے مقرر نہیں ہے، بلکہ جو چیزیں  انسان کے استعمال میں ہوں اور انسان کو اس کے استعمال کی حاجت پیش آتی ہو اوروہ تجارت کے لیے نہ ہوں تو ضرورت اور حاجت کے سامان میں داخل  شمار ہوں گے۔

 صورت مسئولہ کے مطابق سائل کی بیان کردہ تفصیل سے معلوم  ہوتا ہے کہ اس کی ملکیت میں تینوں گھرحوائج اصلیہ میں داخل ہیں۔ اس لئے اِنہیں نصاب میں شمار نہیں  کیا جائے گا۔

 

ولو كانت له دور وحوانيت للغلة وهي لا تكفي عياله فهو من الفقراء على قول محمد خلافا لأبي يوسف. ( مجمع الانهار، كتاب الزكاة، باب الصدقة الفطر، ج:1،ص:227)

و لو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لاتجب. ( الفتاوی الهندية، الباب الاول:في تفسيرها...ومن لا تجب،ج:5،ص:337)

 


فتویٰ نمبر : 10084/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں