بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عشر ادا کرتے وقت اخراجات منہا کرنا


سوال

 ہماری زمین ہےاس پر ہم نے ٹماٹر کا باغ لگایا ہےاور اس باغ پر تین لاکھ خرچہ آیا ہےابھی پیداوار آٹھ لاکھ کی ہوچکی ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ تین لاکھ کو منہا کرکے یعنی ان اخراجات کو نکال کر پانچ لاکھ سے عشر  نكاليں يا پوری قیمت سے عشر نکالیں؟

جواب

واضح رہے کہ زمین سے حاصل شدہ  کل پیداوار میں عشر یا نصف عشر واجب ہوتا ہے اس لیےفصل کی تیار ی تک ہونے والے جملہ اخراجات کو منہا

کرکے عشر ادا کرنے کی شرعا اجازت نہیں، بلکہ مجموعی پیداوار سے عشر ادا کرنا ضروری ہے کیونکہ عشر اور نصف عشر کا مدارفصل پر ہونے والے  خرچہ اور محنت پر  نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق سیرابی کی مؤنت پر ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق باغ پر ہونے والے اخراجات کو منہا کیے بغیر آٹھ لاکھ میں سے عشرادا کی جائے۔

 

وكل شيء ‌أخرجته ‌الأرض مما فيه العشر لا يحتسب فيه أجر العمال ونفقة البقر " لأن النبي عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها.(الهداية، كتاب الزكاة، باب زكوة الزروع والثمار، ج:1،ص:109)

(نصف العشر قبل رفع مؤن الزرع) بضم الميم وفتح الهمزة جمع المؤنة وهي الثقل والمعنى بلا إخراج ما صرف له من نفقة العمال والبقر وكري الأنهار وغيرها مما يحتاج إليه في الزرع لإطلاق قوله  عليه الصلاة والسلام «فيما سقته السماء العشر وفيما سقي بالسانية نصف العشر» ؛ ولأنه عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤن فلا معنى لرفعها هذا قيد لمجموع العشر ونصفه كما لا يخفى. (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الزكوة، باب زكوة الخارج، ج:1، ص:216)


فتویٰ نمبر : 10072/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں