بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ویڈیو کال پر نکاح کرنے کا حکم


سوال

اگر کوئی لڑکا پاکستان میں ہو اور لڑکی فلپائن میں اورآپس میں رضامندی سے نکاح کرناچاہتے ہوںویڈیو کال پرتو اس طرح نکاح کرنا شریعت میں کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح میں لڑکا اور لڑکی کا خود یا ان کے وکیل کا ایجاب وقبول کرتے وقت ایک ہی مجلس میں ہونا ضروری ہے ۔

صورت مسئو لہ کے مطابق ویڈیو کال پرنکاح(ایجاب وقبول  )کرنے کی صورت میں دونوں ایک ہی مجلس عقد میں موجود نہیں ہوتے ،اس لیے ویڈیو کا ل پرنکاح کرناجا ئز نہیں،تاہم یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ لڑکی پاکستان میںکسی کو یالڑکا فلپائن میں کسی کو وکیل بنادےاورپھرایک ہی جگہ پرگواہوں کی موجودگی میں وہ وکیل اوردوسراعاقد خود ایجاب وقبول  کر لیں۔

 

‌(‌ومنها) ‌أن ‌يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد۔(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح ،ج:1،ص334)

قال (‌كل ‌عقد ‌جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره) لأن الإنسان قد يعجز عن المباشرة بنفسه على اعتبار بعض الأحوال فيحتاج إلى أن يوكل غيره فيكون بسبيل منه دفعا للحاجة۔(العناية شرح الهداية،كتاب  الوكا لة،ج:7،ص:501)


فتویٰ نمبر : 6963/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں