بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
انسانی اعضاء کو عطیہ کرنا یا ان کی وصیت کرنا
سوال
کیا انسان اپنی مرضی اور خوشی کے ساتھ مرنے سے پہلے بدن کے کسی جزء کو مفاد عامہ کی خاطر دوسرے انسان یا ادارے کو عطیہ کر سکتا ہے؟ اوریا ایسی وصیت کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
طب کے میدان میں ترقی کی وجہ سے یہ بات ممکن ہو گئی ہے کہ ایک انسان کا کوئی عضو دوسرے انسان کے جسم میں لگایا جائے، چونکہ آج کل بعض بیماریوں میں اس طرح کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے ،اس لئے درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جائےتو بوقت ضرورت اعضا کے عطیہ کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے:
1:مریض کو شدید ضرورت ہو،اورآدمی اپنی مرضی سے عضو عطیہ کررہا ہو ۔
2:عضو دینے سےخود اس کو نقصان نہ پہنچتا ہو،اس لیے کہ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
3:مریض کے علاج کے لیے اس کے علاوہ کوئی اورچارہ نہ ہو۔
4:اس طریقہ علاج سے صحت کی بحالی کا یقین یا غالب گمان ہو۔
5:عضو عطیہ کرنے کا مقصد صرف مریض کی جان بچانا ہو،کوئی مالی مفادات مقصود نہ ہوں۔
اور جہاں تک اعضاکی وصیت کا تعلق ہے تو چونکہ وصیت جس چیز میں کی جاتی ہے اس کا مال ہوناضروری ہے، اور انسانی اعضا مال نہیں اس لیے اپنے اعضا کی وصیت کا شرعاًاعتبار نہیں ۔
"يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه، ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه... أدخل المرارة في أصبعه للتداوي قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - لا يجوز وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى – يجوز، وعليه الفتوى كذا في الخلاصة."(الفتاوى الهندية، الباب الثامن في التداوي والمعالجات، ج:5، ص:355-356)
"وأما الذي يرجع إلى الموصىٰ به فأنواع، منها: أن يكون مالا أو متعلقا بالمال؛ لأن الوصية إيجاب الملك أو إيجاب ما يتعلق بالملك من البيع، والهبة، والصدقة، والاعتاق، ومحل الملك هو المال، فلا تصح الوصية بالميتة، والدم من أحد، ولأحد؛ لأنهما ليسا بمال في حق أحد، ولا بجلد الميتة قبل الدباغ، وكل ما ليس بمال.(بدائع الصنائع، كتاب الوصايا، ج:10، ص:522)
"الضرورات تبيح المحظورات،أي:الأشياء الممنوعةتعامل كالأشياء المباحة وقت الضرورة.(شرح المجلة، سليم رستم باز،المقالة الثانية في بيان القواعد الفقهية، مادة:21، ج:1، ص:29
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں