بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مسلم شخصیات کے کردار ادا کرنا


سوال

آپ لوگوں نے ایک جواب تحریر فرمایا جس کے ایک جزء پر مجھے شکوک وشبہات ہیں جزء کا خلاصہ یہ ہے( تاہم استاد کو چاہیےکہ ان لوگوں کے کردار کی بجائے مسلم شخصیات کے کردار ادا کرنے کا کہے) تو پوچھنا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کی طرف کسی صحابی یا تابعی کی فرضی نسبت کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کی نقل اتارنے یا کردار اپنانے سے اس شخص کو ضرر پہنچتا ہویا اس کی دل آزاری ہوتی ہویا اس کی توہین لازم آتی ہو تو شرعاً اس طرح نقل اتارنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی  شخص کااپنے آپ کی طرف کسی صحابی یا تابعی کی  فرضی نسبت  کرنا جائز نہیں، کیونکہ ا یک مسلمان کے دل میں صحابہ کرام اور تابعین کی جوعزت وعظمت جا گزیں ہے، ان فرضی کردار ادا کرنے سے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رِہ سکتی، البتہ کسی صحیح اور جائز مقصد کے لیےدیگر مسلم شخصیات کا کردار مثبت انداز میں اپنانے کی گنجائش ہے۔

 

عن عائشة، قالت: «حكيت» للنبي صلى الله عليه وسلم رجلا، فقال: ‌ما ‌يسرني ‌أني ‌حكيت رجلا، وأن لي كذا وكذا۔ (سنن الترمزي،  أبواب صفة القيامة والرقائق والورع، باب منه، رقم الحديث:2502)

عن عبد الله رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "خير أمتي القرن ‌الذين ‌يلوني. ثم الذين يلونهم. ثم الذين يلونهم. ثم يجئ قوم تسبق شهادة أحدهم يمينه۔ (صحيح مسلم، باب فضل الصحابة ثم الذين يلونهم، رقم الحديث:2533)


فتویٰ نمبر : 5889/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں