بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

داد اکے میراث میں پوتوں کا اپنے باپ کے حصے کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص اپنے باپ سے دس منٹ پہلے فوت ہوا، اب اس شخص کے بیٹے یہ دعوی کررہے ہیں کہ دادا کے میراث میں ہمارا حصہ بنتا ہے اگرچہ دس منٹ پہلے فوت ہوچکا ہے لیکن دن تو ایک  ہی تھا کیا ان کا یہ دعوی درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میراث کے احکام  مرنے کے بعد جاری ہوتے ہیں ، لہذا کسی  شخص کے وارث بننے کے لیے ضروری ہے کہ مورث کے مرنے کے وقت وہ زندہ ہو چنانچہ اگر کوئی   شخص باپ کی  زندگی میں مرجائے   تو اس کا میراث میں حصہ نہیں بنتا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی  شخص اپنے والدسے  پہلے مرجائے چاہے وہ دس منٹ پہلے ہو یا اس سے بھی کم وقت پہلے ،تواس کاوالد کے میراث میں حصہ نہیں بنتا لہذا  اس   کے بیٹوں کے لیے اپنے دادا کے میراث میں اپنے باپ کے حصے کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔

 

وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه ‌عند ‌موته ‌حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل. ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الفرائض ج:10،ص:491)

التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال.( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الفرائض ج:10،ص:528)


فتویٰ نمبر : 3616/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں