بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

فیصد کے اعتبار سے نفع متعین کرکے مضاربت کرنا


سوال

سوال:ایک شخص لوگوں کے پاس آتا ہے اور ان کو بتلاتا ہے کہ آپ  مجھے کچھ پیسےدے دیں، اور میں ان پیسوں پرکام کر کے آپ لوگوں کوفیصد کے اعتبار سے  نفع دوں گا، تو کیا فیصد کے اعتبار سے منافع طے کرنا جائز ہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار مضاربت کہلاتا ہے۔ مضاربت کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ نفع کی تقسیم مضارب اور رب المال کے درمیان کسی خاص تناسب سے مقرر ہو یعنی نفع کو فیصد کے اعتبار سے متعین کیا جائے جب کہ حقیقی  نقصان کا ذمہ دار صرف رب المال(مالک مال )ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سرمایہ کے مالکان نے کام کرنے والے کو مضاربت کے طور پررقم  دی ہو اور منافع میں شرح طے کی ہوتو یہ عقد درست ہے،  لہذا مضاربت کی جملہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئےمضارب اور رب المال کا  آپس میں نفع متعین فیصد  کے اعتبار سے طے کرنا جائز ہے۔

 

المضاربة نوع شركة على أن رأس المال من طرف والسعي والعمل من الطرف الآخر. (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب المضاربة، الفصل الاول، المادة:1404، ص:744)

قال: "‌ومن ‌شرطها ‌أن ‌يكون ‌الربح ‌بينهما ‌مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة. قال: "فإن شرط زيادة عشرة فله أجر مثله" لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر۔ (الهداية، كتاب المضاربة، تعريفها وشروطها، ج:3، ص:200)

ویشترط أیضا في المضاربة أن يكون نصيب كل منهما من الربح معلوما عند العقد؛ لان الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد۔ (فتح القدير ،كتاب المضاربة، ج:7، ص:421)


فتویٰ نمبر : 3582/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں