بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیع کے بعد بائع کازمین زراعت پر دینا


سوال

مشتری نے زمین خریدی اور آدھے پیسے بائع کو دے دیئے اور آدھے پیسے چھ ماہ بعد دینے کا وعدہ کیا ،بائع نے زمین کو مکمل پیسے وصول کرنے تک اپنے پاس  روک لیا  یعنی مشتری کو قبضہ نہیں دیا  ،اور بائع نے اس  زمین کو مزارعت پر دے دیا  ،اب مشتری چھ ماہ مکمل ہونے پر باقی ثمن بائع کو حوالہ کرتا ہے مگر اس زمین پر گنے کی فصل ہے جو اب تک تیار نہیں ہے ،سوال یہ ہے کہ اس صورت میں بائع کا زمین مزارعت پر دینا کیسا تھا  اور اب مزارع کا معاملہ کس کےساتھ  ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ بائع اور مشتری کے درمیان ایجاب و قبو ل سے بیع تام ہو جاتی ہے،اور مشتری کا  حق  مبیع کے ساتھ   متعلق ہو جاتا ہے، اگر مشتری نے پوری قیمت ادا نہ کی ہو تب بھی عقد کرنے سے مبیع پر مشتری کا حق ثابت ہو جاتا ہے،لہذا بائع کے لیے  مبیع بیچنے کے بعد اس میں مالکانہ تصرفات کرنا  جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب مشتری نے زمین خریدی اور آدھے پیسے دیئے اور آدھے پیسے چھ ماہ بعد دینے کا وعدہ کیا، تواِس زمین پر مشتری کی  ملکیت  ثابت ہو گئی  اگرچہ مشتری کو فی الحال مبیع پر قبضہ نہ ملا ہو،  لہذا بائع کے لیے یہ جائز نہیں  تھا کہ وہ اس زمین کو    مزارعت پر  دے،  تاہم اگر بائع نے  یہ زمین مشتری کی اجازت کے بغیرمزارعت پر دی  ہو تو یہ دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا ہے ، لہذا بائع  کا مزارع کے ساتھ  یہ عقد  درست نہیں ۔چنانچہ  یہ زمین اصل مالک (مشتری ) کو ہی لوٹائی جائےگی،تاہم مشتری کواس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ فصل پکنے تک کے لیے  مزارع کو یہ زمین کرایہ پر دے اور مزارع سے اس  کا کرایہ وصول کرے،ضروری ہے کہ  کرایہ اور اجارہ کی مدت دونوں متعین ہوں،اور اگر مشتری اپنی زمین لینے کا مطالبہ کرے تومزارع اپنی فصل  اکھاڑ کر زمین مالک کے حوالہ کرے گا۔

 

عن أبي حميد الساعدي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌لا ‌يحل ‌لامرئ ‌أن يأخذ مال أخيه بغير حقه " وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم۔(مسند أحمد،‌‌حديث أبي حميد الساعدي،ج:5ص:425)

(البيع ينعقد بالإيجاب والقبول) الانعقاد هاهنا تعلق كلام أحد العاقدين بالآخر شرعا على وجه يظهر أثره في المحل. والإيجاب الإثبات."(العنایة شرح الھدایة،کتاب البیوع، ج:6، ص:248)

(ومن غصب أرضا فغرس فيها أو بني قيل له اقلع البناء والغرس وردها)لقوله عليه الصلاةوالسلام:"ليس لعرق ظالم حق"لأن ملك صاحب الأرض باق۔(الهداية،كتاب الغصب،ج:4ص:301)

‌لا ‌يجوز ‌لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه۔۔۔۔لا ‌يجوز ‌لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي وإن اخذه ولو علي ظن أنه ملكه وجب عليه رده عينا ان كان قائما وإلا فيضمن قيمته ان كان قيميا ومثله ان كان مثليا۔(شرح المجلة سليم رستم باز،ج:1ص:62،المادة:96،9)

وجوازه ثبت بقوله تعالى {والصلح خير}عرف بالألف واللام فيقتضي أن يكون كل صلح خيرا وكل خير مشروع ۔۔۔وقال الكاكي وشرط الصلح كون المصالح عنه يجوز الاعتياض عنه كالقصاص۔(تبين الحقائق و حاشيه،كتاب الصلح، ج:5، ص:29)


فتویٰ نمبر : 3584/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں