بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

پرنٹ آن ڈیمانڈ کا حکم


سوال

آج کل " پرنٹ آن ڈیمانڈ " بہت آسان کاروبار ہے۔ اس میں صارف مثال کے طور پر shopify ،estyیا یہاں تک کہ اپنی ویب سائٹ جیسے پلیٹ فارم کا استعمال کرتا ہے۔ طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ سب سے پہلے میں فیکٹری کی ویب سائٹ پر جاتا ہوں اور میں مختلف قسم کی قمیصوں کو منتخب کرتا ہوں اور فیکٹری سے کوٹیشن حاصل کرتا ہوں، پھر میں اس میں منافع کا مارجن شامل کرتا ہوں اور اسے آن لائن اسٹور پر رکھتا ہوں، جو مجھ سے فی سیل اور ماہانہ فیس لیتا ہے۔ آن لائن سٹور پر کلائنٹس کو آپشن دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا نام شرٹ پر پرنٹ کریں، سائز، رنگ اور قمیص کی قسم جس طرح چاہیں منتخب کریں۔ جب کلائنٹ آرڈر دیتا ہے تو کلائنٹ کی طرف سے میرے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوتی ہے، یہ آرڈر فیکٹری کو بھیج دیا جاتا ہے جو آرڈر تیار کرتا ہے اور پھر اسے کلائنٹ کو بھیج دیتا ہے۔ میں فیکٹری کو چارجز ا د ا کر تا ہوں اور باقی منافع حاصل کرتا ہوں۔ اگر میں اپنی ویب سائٹ بناتا ہوں اور کلائنٹس کو وہی آپشن دیتا ہوں، تو مسئلہ وہی رہتا ہے کیونکہ کلائنٹ آرڈر کرتا ہے اور اس کی رقم اس کی پروڈکٹ وصول کیے بغیر میرے اکاؤنٹ میں پہنچ جاتی ہے۔ اگر آرڈر دوسرے ملک سے ہو تو آئٹم ادائیگی کےدو تین دن بعد پہنچ جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر میں آرڈر لیتا ہوں اور پھر فیکٹری سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کلائنٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق پروڈکٹ بنائے اور پھر وہ اسے میرے کلائنٹ تک پہنچائے۔ کیا یہ حلال ہے ؟ یا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے اسے حلال بنایا جاسکتا ہے؟ مجھے اس کا شریعت کے مطابق حل چاہیے۔

جواب

واضح رہے کہ کسی چیز کے بیچنے کے لیے اس چیز کا مالک ہونا یا اس چیز کے بیچنے کا وکیل ہو ناضروری ہے، اس کے بغیر بیع جائز نہیں، البتہ اگر کوئی شخص کسی کےساتھ یہ وعدہ کرے کہ میں فلاں چیز آپ کو اتنی رقم میں بیچ دوں گا تو اس صورت میں یہ وعدہ بیع شمار ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص بیچنے کے لیے اشیا کی تصاویر شیئر کرتا ہو اور وہ اشیا اس کی ملکیت میں نہ ہوں تو اس طرح بیع کرنا جائز نہیں،البتہ جواز کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ جو اس چیز کے خریدنے کا ارادہ ظاہر کرے تو اس سے وعدہ کیا جائے کہ میں یہ چیز اتنی قیمت میں آپ پر فروخت کروں گا، اس صورت میں یہ وعدہ بیع شمار ہو گا اور بعد میں با قاعدہ ایجاب و قبول یا تعاطی سے بیع تام ہو جائے گی، البتہ اس صورت میں اس چیز پر بائع یا اس کے وکیل کا قبضہ کرناضروری ہے،کیونکہ قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو آگے بیچنا جائز نہیں۔

 

"عن حكيم بن حزام قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يأتينی الرجل يسألني من البيع ما ليس عندی، أبتاع له من السوق، ثم أبيعه؟ قال: لا تبع ما ليس عندك."(السنن الترمذی ،باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك،ج:2,ص:525)

"ومنها أن يكون مملوكا؛ لأن البيع تمليك فلا ينعقد فيما ليس بمملوك... ومنها وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع، فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم." (بدائع الصنائع ،فصل وما الذی يرجع الی المعقود عليه، ج:5، ص:147)

"ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد ‌بيع ‌المعدوم ‌وما ‌له ‌خطر العدم كبيع نتاج النتاج والحمل كذا في البدائع، وأن يكون مملوكا في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه فلا ينعقد بيع الكلإولو في أرض مملوكة له، ولا بيع ما ليس مملوكا له، وإن ملكه بعده إلا السلم... وأما شرائط النفاذ فنوعان: أحدهما الملك أو الولاية والثاني أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع فإن كان لا ينفذ كالمرهون والمستأجر كذا في البدائع."( الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع و ركنه و شرطه و حكمه وأنواعه، ج:1، ص:5)


فتویٰ نمبر : 5946/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں