بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

غیر مستحقینِ زکوۃ کی تعیین


سوال

بعض حضرات زکوۃ دیتے وقت مصرف کو نہیں دیکھتے کہ کیا مستحق زکوۃ ہے یا نہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں کن کن لوگوں کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی نقطہ نظر سے اس شخص کو زکوۃ دینا جائز نہیں جو غیر مسلم ہویا جو مسلمان ہو لیکن  صاحب نصاب  ہو یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے بقدر نقدی  یا مال تجارت ہو جس کی قیمت نصاب کے برابر ہو یا وہ سید، ہاشمی ہو۔ نیزاصول یعنی ماں، باپ اوران کے ماں باپ (دادا،دادی، نانا، نانی) وغیرہ کو اور فروع یعنی بیٹا، بیٹی اوران کے بیٹے،  بیٹی (پوتا،پوتی،نواسا، نواسی) وغیرہ  کو اور میاں بیوی کا ایک دوسرے کو زکوۃ دینا بھی جائز نہیں۔

وأما أهل الذمة فلا يجوز صرف الزكاة إليهم بالاتفاق ويجوز صرف صدقة التطوع إليهم بالاتفاق، ۔ ۔ ۔ وأما الحربي المستأمن فلا يجوز دفع الزكاة والصدقة الواجبة إليه بالإجماع ويجوز صرف التطوع إليه كذا في السراج الوهاج. ۔ ۔ ۔ لا ‌يجوز ‌دفع ‌الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، ج:1، ص:188،189)

قال: " ولا يدفع المزكي زكاته إلى أبيه وجده وإن علا ولا إلى ولده وولد ولده وإن سفل " لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتتحقق التمليك على الكمال " ولا إلى امرأته " للاشتراك في المنافع عادة " ولا تدفع المرأة إلى زوجها " عند أبي حنيفة رحمه الله لما ذكرنا. ۔ ۔ ۔ ولا تدفع إلى بني هاشم " لقوله عليه الصلاة والسلام " يا بني هاشم إن الله تعالى حرم عليكم غسالة الناس وأوساخهم وعوضكم منها بخمس الخمس "(الهداية، كتاب الزكاة، ج:1، ص:111،112)


فتویٰ نمبر : 10070/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں