بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مطاف میں نفلی طواف کرنے کی غرض سے احرام پہننا


سوال

اس وقت خانہ کعبہ کے مطاف میں صرف احرام پہنے ہوئے  معتمرین حضرات کو  جانے کی اجازت ہے، اگر صرف طواف کرنے  کے لیے احرام کی چادر پہن کر طواف کیا جائے تو کیا طواف ہو جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حکومتی قوانین  جب تک  شرعی احکام سے متصادم نہ ہو ں  اس کا احترام اور اس کی پاسداری ضروری ہو تی ہے۔

 صور ت مسؤلہ کے مطابق آج کل سعودی حکومت کی جانب سے مطاف میں صرف عمرہ کا احرام باندھنے والوں کو طواف کی اجازت ہوتی ہے، نفلی طواف کرنے والوں کو وہاں طواف کرنے سے منع کیا جاتا ہے، چونکہ یہ قانون زائرین ہی کی سہولت کے لیے بنایا گیا ہے، لہذا اس قانون کی رعایت کرنی چاہیے،اور مطاف میں نفلی طواف کرنے کی غرض سے احرام کی چادریں باندھنا  چونکہ حقیقتِ حال کے برعکس ظاہر کرنا ہے اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی شخص احرام کی چادریں پہن کر مطاف میں نفلی طواف کرلے تو اس کا طواف ادا ہوجائے گا۔

 

أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع وإلا فلا يتبع ولا تجوز مخالفته.(الدر المختار، كتاب القضا، ج: 5، ص:422)

وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به وينهاهم عنه ؛لقول الله تعالى:﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم﴾ [النساء: 59] وقال عليه الصلاة والسلام:" اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله تعالى" ولأنه نائب الإمام وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنه طاعة الإمام إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها ؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا ؟ فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية ؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد والله تعالى أعلم.(بدائع الصنائع، كتاب السير، فصل فيما يندب إليه الإمام عند بعث الجيش أو السرية إلى الجهاد،ج: 7، ص: 99).


فتویٰ نمبر : 10086/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں