بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

عدت وفات کی مدت اور اس میں زیب وزینت کرنا


سوال

شوہر کی وفات کے بعدبیوہ عدت گزار رہی ہے تو کیا عورت عدت وفات میں چوڑیاں، نئے کپڑے پہن سکتی ہے اور زيب وزينت كر سکتی ہے یا نہیں؟اور عورت  کتنی ماه عدت گزارے گی؟

جواب

جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تواگر وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہےاور اگر حاملہ نہ ہو تواس پر چار ماہ دس دن  عدت گزارنا ضروری ہے، اس کے بعد اس کے لیے گھر سے نکلنا اور دوسری شادی کرنا جائز ہوتا ہے،نیز عدت کے دوران زیب وزینت اختیار نہیں کرے گی، جو چیز شرعاً یا عرفا ًزینت شمار  ہوتو عدت کے دوران معتدہ عورت اس سے اجتناب کرے گی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر بیوہ عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی اور اگر حاملہ نہ ہو تواس پر چار ماہ دس دن  عدت گزارنا ضروری ہوگا، چوڑیاں پہننا، سرخ کپڑے یا نئے کپڑےپہننا زیب وزینت کے زمرے میں داخل ہے،اس لیے  بیوہ عدت  کے دوران اس سے اجتناب کرے، تاہم کپڑوں کی قلت کے وقت  نئے کپڑے پہن سکتی ہے۔

 

قال اللہ تعالی﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾(البقرۃ:234)

وقال:﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾(الطلاق:4)

"وشرعا ترک الزینة ونحوھا لمعتدۃ بائن أو موت"۔(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الطلاق،فصل فی الحداد،ج:5،ص:219)

"والحداد:الاجتناب عن الطیب۔۔۔والثوب الاحمر،ولبس الحلی والتزین ۔قال شمس الأئمة:المراد من الثیاب المذکورۃ ماکان جدیدا منھا تقع به الزینة،أما إذا کان خلقا لا تقع به الزینة فلا بأس بة"۔(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع عشرفى الحداد، ج:1، ص :585)


فتویٰ نمبر : 6964/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں