بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نوکری میں وقت سے پہلے چھٹی کرنا


سوال

میں سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا ہوں اور آفس ٹائم 9 سے 5 بجے تک کا ہے اور میں اپنا کام مکمل کرکے ٹائم سے پہلے چلے جاتا ہوں۔ اگر نہ  جاؤں تو ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ بالکل فارغ بیٹھنا پڑھتا ہے اس کی وجہ سے آفس والے ان لوگوں کا کام دیتے ہیں جو جلدی چلے جاتے ہیں. تو کیا شریعت کی رو سے میرا اپنا پورا کام مکمل کرکے چلے جانا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے  تنخواہ دار ملازم کی حیثیت اجیرِ خاص کی ہوتی ہےاور  اجیرِ  خاص  ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر رہنے سے اجرت (تنخواہ)  کا مستحق ہوتا ہے، اگر وہ ملازمت کے اوقات میں  حاضر نہیں  رہا غیر حاضری کے بقدر تنخواہ  کا مستحق نہیں ہوتا۔  

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سرکار کی طرف سے مذکورہ ملازمت کا یومیہ دورانیہ9 سے 5 بجے طے ہے تو اس وقت کے اندر ڈیوٹی پر حاضر رہنا ضروری ہے، اگرچہ کوئی کام نہ ہو، بہر حال مقرر اور طے شدہ وقت کی پابندی ضروری  ہے۔

‌

"الأجير (الخاص) ‌ويسمى ‌أجير ‌وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا"۔ (رد المحتار على الدر المختار ،كتاب الاجاره،  مطلب الأجير الخاص ، ج: 6 ، ص:69)

"(والثاني) وهو الأجير (الخاص)۔۔۔(وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل)"۔(الدر المختارعلی صدر ردالمحتار،كتاب الاجارة،باب ضمان الاجير،ج:9،ص:94)

"أن ‌الأجير ‌الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعلم كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم"(فتح القدير، كتاب الإجارۃ، باب إجارۃ العبد، ج: 9 ص:140)

"الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة"(مجلةالأحكام، الكتاب الثاني: في الإجارات، الباب الأول في بيان الضوابط العمومية،المادة:425، ص:82)

 


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں