بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

مضاربت میں نفع کی تعیین


سوال

میری ایک بہن ہے اس کا شوہر سعودی عرب میں کام کرتا ہے اب میری بہن کے پاس 5لاکھ روپے ہیں وہ کہتی ہے کہ ان پیسوں کو کاروبار میں لگاؤ تاکہ مجھے کچھ نفع ملے۔میرا ایک دوست ہے وہ مو بائیل کا کام کرتاہے اس کو اچھا منافع بھی حاصل ہوتا ہے تو میں نے اس سے کہا کہ یہ پانچ لاکھ روپے لو اس پر مجھے  ہر ماہ نفع دو اس نے کہا کہ میں تمہیں ہرماہ 15000 نفع دونگا  پھر ہم نے معاہدہ کیا تو پوچھنا یہ ہے کہ اس قسم کا معاملہ شریعت کی رو سے کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار عقد مضاربت کہلاتا ہے۔ مضاربت میں نفع کی تقسیم مضارب (کام کرنے والا ) اور رب المال (سرمایہ کا مالک) کے مابین کسی خاص تناسب سے طے كرنا  ضروری ہے،چنانچہ اگر مضاربت میں فیصد یا تناسب کے لحاظ سے نفع طے  کرنے کے بجائے کسی ایک کے لیے معین مقدار میں مقرر ہو تو اس رقم سے عقد مضاربت فاسد ہو جاتی ہے ۔

صورت مسئولہ میں چونکہ منافع میں سرمایہ کے مالک  کےلیے 15ہزار روپے مقرر کیےگئے ہیں جو متعین مقدار ہے، لہذا یہ عقد جائز نہیں،چنانچہ اس کو ختم کیا جائے۔

 

قال: "ومن شرطھا أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما". (الهداية، كتاب المضاربة، ج:3، ص:263)


فتویٰ نمبر : 3578/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں