بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

بالغ مرد کے ہوتے ہوئے نابالغ کا اذان دینا


سوال

ہماری مسجد میں اذان کے وقت بالغ مردموجود  ہونے کے باوجود نابالغ بچہ اذان دیتا ہے تو  کیا ایساکرنا جائز ہے؟کیا بچے کی اذان دینے کی صورت میں لوٹایا جائے گا یا نہیں ؟

جواب

اذان دینےکے لیے مؤذن کا بالغ ہونا ضروری نہیں، بچہ اگر عاقل اور ممیز ہو تو وہ بھی اذان دے سکتا ہےاس کی اذان بغیر کراہت کے درست ہے، البتہ بالغ آدمی کا اذان  دینا بہتر ہے ۔اور بچہ اگر اتنا چھوٹا ہو کہ وہ اپنے فائدہ اور نقصان کی تمیز نہ کرسکتا ہو تو اس کی اذان ناجائز ہے، اس کا اعادہ ضروری ہے ۔

صورتِ مسئولہ میں اگر مسجد میں بالغ مردکے ہوتے ہوئےکوئی ایسا نابالغ بچہ اذان دےجو سمجھ دار ہوتو ایسےنابالغ کی اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے،لیکن اگربچہ ناسمجھ ہےتو اس کا اذان دینا ناجائز ہے،اس اذان کو لوٹایاجائےگا۔

 

"أذان الصبي العاقل صحيح من غير كراهة في ظاهر الرواية ولكن أذان البالغ أفضل وأذان الصبي الذي لايعقل لايجوز، ويعاد وكذا المجنون. هكذا في النهاية"۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة، الباب الثانی فی الأذان،ج:1،ص:54)


فتویٰ نمبر : 10085/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں