بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

الفاظ كفر كے ساتھ قسم اٹھانا


سوال

اگر کوئی  مسلمان شخص کفر کا عقیدہ رکھے بغیر اس طرح قسم کھائے:"اگر میں 22جولائی 2024 کو لندن گیاتو میں کافر ہوں گا"اورلندن جاتے وقت اس کا نہ کفر کا عقیدہ تھا اور نہ نیت تھی اور کفر پر راضی بھی نہیں تھا تو کیا وہ کافر ہوگا یا نہیں؟َ

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص ایسے الفاظ سے قسم کھائے جن سے کفر لازم آتا ہو  مگر ان الفاظ سے نہ اس کی نیت کفر پر راضی ہونے کی ہو اور نہ ہی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو اور  نہ ہی کفر کے اختیار کرنے پر راضی ہو تو ایسا شخص ،ان بے ہودہ  الفاظ  سے قسم کھانے کی    کی وجہ سے گنہگار ہو گا  لیکن کافر نہیں ہو گا،اور ان الفاظ سے قسم کھانا یمین کے زمرے میں آتا ہے،لہذا حانث ہونے کی صورت میں کفارہ قسم ادا کرنا لازم ہے۔

صورت مسئولہ کےمطابق  اگر کوئی شخص قسم اٹھائے کہ"اگر میں 24 جولائی 2024کو لندن چلاگیا تو میں کافر ہوں گا "اور اس  کی نیت  اور عقیدہ کفر کا نہ ہواور نہ ہی اس کے اختیار پر راضی ہو  تو  حانث ہونے کی صورت  میں کافر نہیں ہوگا البتہ کفارہ قسم ادا کرنا پڑے گا۔اور گنہگارہوگا لہذا توبہ اور استغفار کرے اور آئندہ ایسی قسم  سے اجتناب کرے۔

 

"ولو قال: إن فعل كذا فهو يهودي، أو نصراني، أو مجوسي، أو بريء من الإسلام، أو كافر، أو يعبد من دون الله، أو يعبد الصليب، أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرا فهو يمين استحسانا كذا في البدائع. حتى لو فعل ذلك الفعل يلزمه الكفارة، وهل يصير كافرا اختلف المشايخ فيه قال: شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى -: والمختار للفتوى أنه إن كان عنده أنه يكفر متى أتى بهذا الشرط، ومع هذا أتى يصير كافرا لرضاه بالكفر، وكفارته أن يقول: لا إله إلا الله محمد رسول الله، وإن كان عنده أنه إذا أتى بهذا الشرط لا يصير كافرا لا يكفر."(الفتاوی الهندية،کتاب الأیمان، الباب الثاني فيما يكون يمينا وما لا يكون يمينا، الفصل الأول في تحليف الظلمة وفيما ينوي الحالف غير ما ينوي المستحلف، ج:2،ص:52)


فتویٰ نمبر : 10068/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں