بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

اولاد كے نفقہ میں برابری کرنا


سوال

میرے پانچ بچے ہیں، میرے شوہر نے دوسری شادی کی ہے ،جس سے اس کے دو بچے ہیں۔ شوہر اخراجات میں برابری کرتا ہے، جو چیز بھی گھر لاتا ہے، مثلا: دودھ وغیرہ  سب برابر تقسیم کرتا ہے،لیکن بچوں کی کثرت کی وجہ سےہماری ضروریات زیادہ ہیں، لہذا اگرہمارے گھر میں خرچہ زیادہ کرے تو یہ جائز ہو گا یا نہیں۔

جواب

واضح رہےکہ جس طرح شوہر پر بیوی کا نفقہ لازم ہے اسی طرح اپنے بچوں کا نفقہ بھی لازم ہے، تاہم اولاد کے نفقہ میں برابری لازم نہیں ،بلکہ ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے  ان پر خرچہ کیا جاسکتا ہے۔

صورت مسئولہ میں چوں کہ شوہر پر بیوی کا الگ نفقہ لازم ہوتاہے اور اولاد کا الگ، اس لیےبیویوں  کے نفقہ میں توبرابری کرنا  ضروری ہے البتہ اولاد کی ضروریات اور تعداد وغیرہ  کو مد نظر رکھتےہوئےان کے لیے نفقہ مقرر کرنے میں کمی بیشی کی گنجائش ہے، لہذاجس بیوی کی اولاد زیادہ ہو تو اولاد کی تعداد  کے حساب سے ان کو زیادہ خرچہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔

 

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد.(الفتاوی الهندية، كتاب الطلاق، الباب سابع عشر في النفقات ج1:،ص:560)

وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار.(رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الهبة، ج: 6،ص:696)


فتویٰ نمبر : 6960/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں