بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت دوکان اور پلاٹ کی بقیہ واجب الادااقساط کوسرمایہ سے منہا کرنا


سوال

زید نے کمرشل پلازہ میں ایک دوکان فروخت کی نیت سے اورہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک پلاٹ اپنی رہائش کے لیے قسطوں پرلیا ہے اور دونوں کی کئی اقساط جمع کی ہیں جبکہ کافی ساری قسطیں باقی ہیں تو کیا زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت اپنے ٹوٹل بیلنس میں سے دوکان اور پلاٹ کی بقیہ واجب الادااقساط نکالے گا اور پھر جو بیلنس بچے گا توکیا اس میں سے زکوٰۃ ادا کرے گا؟

جواب

کسی شخص پر زکوٰۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جب کہ وہ اپنی ضروریات سے زائد اور اپنے ذمہ واجب الاداء قرضوں کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس مقدار میں چاندی کی قیمت کے برابر مال کا مالک ہو اور اس مال پر سال گزر جائے۔ اسی طرح تجارت کی نیت سے خریدی ہوئی چیزوں میں بھی زکوۃ واجب ہوتی ہے چاہے سامان ہو یا زمین۔

صورت مسؤلہ میں سائل پردوکان اور پلاٹ کی بقیہ واجب الادا اقساط قرض ہے اس لیے اس کو بیلنس سے منہا کیا جائے گا تاہم زکوۃ کی ادائیگی کے وقت فروخت کی نیت سے خریدے ہوئے دوکان کی موجودہ قیمت فروخت معلوم کی جائے اور اس کوٹوٹل بیلنس کے ساتھ جمع کیا جائے پھر واجب الادا اقساط کو چاہے دوکان کی ہوں یا پلاٹ کی اس کو منہا کیا جائے اس کے بعد جتنا بیلنس بچے اگر وہ زکوۃ کے نصاب تک پہنچتا ہو تو اس میں سے زکوۃ ادا کرے گا۔

 

(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض۔۔۔وهو حال أو مؤجل۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الباب الأول في تفسيرها و صفتها و شرائطها، ج:1، ص:234)

وتعتبر القيمة يوم الوجوب وقالا يوم الأداء وفي السوائم يوم الأداء إجماعا وهو الأصح. وقال ابن عابدين:وفي المحيط:يعتبر يوم الأداءبالإجماع وهو الأصح۔ (الدرالمختارعلى صدرردالمحتار، كتاب الزكوة، باب زكوة الغنم، ج:3، ص:211)

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب۔(فتح  القدير، كتاب الزكوة، باب زكوة المال، ج :2، ص:166)


فتویٰ نمبر : 10073/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں