بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بھتیجی سے نکاح


سوال

ایک لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا  ہے، لیکن لڑکے  کی بھابھی کہتی ہے کہ  میں نےاس لڑکی  کو دودھ پلایا ہے  کیا  لڑکے کا اس لڑکی  کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح  نسبی بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں اسی طرح رضاعی بھتیجی کے ساتھ بھی نکاح کرناجائز نہیں، نیز رضاعت کا ثبوت  دو عادل مرد وں یا ایک مرد اور دو  عورتوں  کی گواہی  سے ہوتاہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی لڑکے کی بھابھی نے اس لڑکی کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا ہو اور اس پر دو عادل مرد گواہ یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں تو وہ لڑکی اس لڑکے کی رضاعی بھتیجی شمار ہوگی، لہذا اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور اگر گواہ موجود نہ ہو ں تو اگرچہ حرمت رضاعت تو ثابت نہیں ہوگا، لیکن شکوک وشبہات کی وجہ سے ایسی جگہ  پر نکاح کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

 

‌يحرم ‌على ‌الرضيع ‌أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة.(الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع، ج:1، ص:409)

ولا يقبل في الرضاع ‌إلا ‌شهادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع، ج:1، ص:413)


فتویٰ نمبر : 6961/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں