بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

مضاربت میں نفع کی تعیین


سوال

اگر کوئی شخص کسی کے پاس تین لاکھ ساٹھ ہزار (360000) روپے انویسٹ کرے ۔اور وہ شخص مالک سرمایہ سے کہے کہ میں ان پیسوں کو مندرجہ ذیل شرائط کی بنا پر انویسٹ کروں گا:

1: میں منافع  میں سے ماہانہ تم کو 25 سے 30 ہزار روپے دوں گا ۔

2:اگر منافع کم ہوا تو میں 25 سے30 ہزارتک روپے دینے کا پابند نہیں ہوں گا بلکہ اس سے کم دوں گا۔

3: اگر منافع زیادہ ہوا تو میں 30 ہزار سے زیادہ نہیں دوں گا ۔

4:  مضارب رب المال کو کہے کہ میں تم کو  تین مہینوں کے حساب سے 90 ہزار سے لے کر  1 لاکھ پانچ ہزار تک دوں گا۔

کیا مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ عقد مضاربت جائز ہو گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار "عقد مضاربت "کہلاتا ہے ۔مضاربت میں نفع  کی تقسیم مضارب اور رب المال ( مالک سرمایہ) کے مابین کسی خاص تناسب  سے  طے ہونا ضروری ہے ۔ جب کہ رقم کی متعین مقدار مقرر کرنا  جائز نہیں ،اس سے عقد مضاربت فاسد ہو جاتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سوال میں مذکورہ تمام شرائط غلط ہیں،لہذا اس طرح معاملہ  کرنا جائز نہیں۔

 

"ومن شرطها ‌أن ‌يكون ‌الربح ‌بينهما ‌مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح... لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر. (الهداية،كتاب المضاربة،ج:٣،ص:٢٠٠)

يشترط في المضاربة كشركة العقد كون رأس المال معلوما، وتعيين حصة العاقدين من الربح جزءٌ شائعا،كالنصف،والثلث...إذا لم تكن حصةالعاقدين من الربح جزء شائعا، بل تعين لأحدهما الربح.... تفسد المضاربة.( شرح المجلة، الباب السابع في احكام المضاربة، الفصل الثالث، مادة:١٤١١)


فتویٰ نمبر : 3574/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں