بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/07/2026 |
دارالافتاء
نص قطعی سے ثابت شدہ گناہوں پر فخر کرنا
سوال
اگر کسی شخص کو یہ مسئلہ بھی معلوم ہو کہ قطعی حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے اور وہ قطعی گناہ کرتا ہے اور اس گناہ پر کسی سبب سے یا بغیر کسی سبب کے فخر کرتا ہے لیکن وہ اس گناہ کو حرام سمجھتا ہے اور اس گناہ کی استہزاء اور استخفاف بھی مقصد نہ ہو بلکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ گناہ حرام ہے لیکن وہ گناہ فخریہ طور پر کرتا ہو ،تو کیا یہ شخص کافر ہے یا فاسق؟نیز اگر کوئی شخص گناہ کر کے یہ الفاظ بولے"میں نے جو کیا اچھا کیا "اور ان الفاظ سے مقصود دین کا استہزاء نہ ہو تو ایسا شخص کافر ہے یا فاسق؟
جواب
واضح رہے کہ گناہ اللہ کی نافرمانی اور ناراضگی کا ذریعہ ہے ،جبکہ ان گناہوں کو فخریہ طور پر کیا جائے تو ایسے گناہ کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے اور اس سے توبہ کے امکانات کم رِہ جاتے ہیں تاہم اگر ان کا مرتکب ان گناہوں کو تو حلال نہ سمجھتا ہو تو وہ کافر نہ ہو گا۔نیز اگر کوئی شخص گناہ کر کے یہ الفاظ بولے"میں نے جو کیا اچھا کیا" اور اس سے مقصود دین کا استہزا نہ ہو بلکہ اپنی جہالت اور بے دینی اور بے توجہی کی وجہ سے ایسے کلمات بولے ہوں تو اس سے کفر لازم نہیں آتا ،البتہ توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔
مطلب استحلال المعصية القطعية كفر لكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصية بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالا، فإن كان حرمته لعينه وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا بأن تكون حرمته لغيره أو ثبت بدليل ظني. وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره وقال من استحل حراما قد علم في دين النبي عليه الصلاة والسلام تحريمه كنكاح المحارم فكافر۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكاة،ج:2ص:292)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 302
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 232
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 845
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 423
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 107
- کتاب النکاح | فتاوئ : 533
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 462
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 35
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 55
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 441
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 94
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 72
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 66
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 166
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 372
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 196
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 142
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 57
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 18
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 36
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 304
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1131
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 368
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 17
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں