بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

گناہ پر مشتمل اشعار پڑھنا اور ان پر فخر کرنا


سوال

بعض شعراء ایسے اشعار پڑھتے ہیں جو گناہ پر مشتمل ہوتے ہیں اور وہ اس گناہ پر فخر کرتے ہیں اور جگہ جگہ مشاعروں میں سناتے ہیں ،کیا یہ سب کفر ہے یا فسق؟

جواب

واضح رہے کہ ایسے اشعار جو کلمات کفریہ اور شرکیہ پر  تومشتمل نہ ہوں البتہ  وہ اشعار  جھوٹ، فحاشی  وغیرہ  ناجائز اور حرام امورپر مشتمل ہوں یا کسی ناجائز کام کی ترغیب کی طرف لیجانے کا  باعث بنتے ہوں، ایسے اشعار لکھنااور پڑھنا ناجائز اور حرام  ہے۔ اور ان اشعار كو   پڑهنے پر فخر  کرنے کی  وجہ سے آدمی  گنہگارہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر  کوئی شاعر گناہ پر مشتمل  اشعار پڑھے  مثلا  جو جھوٹ،فحاشی،یا عشق مجازی جیسے بے ہودہ اشعار  پر مشتمل ہو،تو ايسے اشعار پڑھنے اور ان پر فخر کرنے کی وجہ سے آدمی گنہگار     ہو گا   چنانچہ    ایسے اشعار پڑھنے سے مکمل توبہ   کرے ۔اور اس کی جگہ ایسے اشعار پڑھے جو اللہ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ ﷺکی اوصاف جمیلہ اور اخلاق حمیدہ پر مشتمل ہوں جو خیر و برکت اور اجر  وثواب کا ذریعہ ہے۔

 

أن أبي بن كعب أخبره: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن ‌من ‌الشعر حكمة."۔(صحيح البخاري، ‌‌باب ما يجوز من الشعر والرجز والحداء وما يكره منه،ج:8ص:34)

اعلم ‌أن ‌الشعر ‌ثلاثة ‌أنواع مباح ومثاب عليه ومنهي عنه؛ لأنه لا يخلو من أن يكون مشتملا على أوصاف المخلوقات الحسنة كالإنسان والحيوان والنباتات والمعادن ونحو ذلك أو على الأوصاف القبيحة في الإنسان ونحوه، وهو المسمى بالهجو، وهو ما ينفر قلب الرجل عن أخيه المسلم، وهو المنهي عنه، فإن كان ذلك صدقا، فقد دخل في الغيبة، وإن كان كذبا فقد دخل في الكذب فيستحب الوضوء منه، وأما إذا كان مشتملا على الأوصاف الحسنة كذكر إنسان معين أو غير معين أو ذكر زهر أو روض معين أو غير معين فذلك دائر مع القصد والإرادة، فإن أراد بذلك اللهو والغفلة والغرور بزخارف الدنيا؛ ولذائذها فهو منهي عنه أيضا قال النبي عليه الصلاة والسلام «كل لهو ابن آدم حرام»۔(البحرالرائق،كتاب الطهارة،ج:1ص:17)

بقوله تعالى  {ومن الناس من يشتري لهو الحديث} جاء في التفسير: ‌ أن المراد الغناء وحمل ما وقع من الصحابة على إنشاء الشعر المباح الذي فيه الحكم والمواعظ، ‌فإن ‌لفظ ‌الغناء كما يطلق على المعروف يطلق على غيره كما في الحديث «من لم يتغن بالقرآن فليس منا» وتمامه في النهاية وغيرها،(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الحظر و الإباحة،ج:6ص:349)


فتویٰ نمبر : 10063/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں