بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

دو طلاق رجعی کے بعد رجوع کرنا


سوال

اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو دو صریحی طلاق دےد ے، اور عدت کے دوران رجوع بھی کرے، تو کیا اس صورت میں عورت شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے یعنی رشتہ نکاح باقی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دوطلاق رجعی دے تو اس کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتاہے، اگرعدت کے اندر رجوع کر لے تونکاح باقی رہے گا اوروہ میاں بیوی شمار ہوں گے البتہ اگر عدت کےاندر رجوع نہ کرے تو نکاح ٹوٹ جائے گا پھرنکاح کے لیےباہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے دو گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح ضروری ہے۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی شوہرنے اپنی بیوی کو دوصریح طلاقیں دی ہوں اورپھرعدت کے اندر رجوع کیا ہو تو رشتہ نکاح باقی ہے اورعورت شوہر کے ساتھ رہے گی البتہ شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے۔

 

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين ‌فله ‌أن ‌يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض۔۔۔ لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها۔ (الهداية، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2، ص:254)

هي: ‌استدامة ‌الملك ‌القائم في العدة، وتصح إن لم يطلق ثلاثًا۔ ( النهر الفائق، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2، ص:413)


فتویٰ نمبر : 6958/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں