بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ثمن کی ادائیگی سے پہلے بائع کا مقررہ قیمت سے زیادہ کا مطالبہ کرنا


سوال

اگر کوئی شخص پلاٹ  قسطوں پر خرید لے،تو کیا پوری قیمت کی ادائیگی سے پہلے بائع کےلیےمشتری کی رضا مندی کے بغیر اس پلاٹ کو فروخت کرنااور یا مقررہ قیمت سے زیادہ کا مطالبہ کرنا درست ہے؟

جواب

جب بائع اور مشتری مجلس عقد میں کسی قیمت پر اتفاق کر کے بیع منعقد کر لیں تو بیع تام ہوجاتی ہے، اور مشتری حسب معاہدہ طے شدہ رقم ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے،پھر اگر معاملہ ادھار ہو تو مشتری چاہے وقت مقررہ سے پہلےرقم ادا کرے یا کسی عذر کی بناپر وقت مقررہ کے بعد ،بہر صورت وہی رقم ادا کرے گا جو بوقت عقد طے ہوئی تھی، بائع کے لیےمقررہ قیمت سے زیادہ رقم لینا جائز نہیں۔اسی طرح کسی دوسرے کی مملوکہ چیز میں اس کی رضامندی کے بغیر تصرف کرناجائز نہیں ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب باہم رضامندی سےپلاٹ کی قیمت طےہوکرخریدار اُسےخرید لے تو وہ اس پلاٹ کا مالک بن جاتا ہےاس لیے فروخت کنندہ قیمت میں زیادتی کا مطالبہ نہیں  کرسکتا، یہ سود کے حکم میں داخل ہے،نیزخریدارکی اجازت کے بغیراس پلاٹ کو فروخت بھی نہیں کیا جاسکتا۔

 

"ويجوز البيع بثمن حال و مؤجل إن كان الأجل معلوما. ( الهداية، كتاب البيوع، باب كيفية انعقادالبيع، ج:3، ص:21)

"وفي الاشباه: ‌كل قرض ‌جر نفعا حرام. ( ردالمحتار على الدرالمختار ، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166)

"لایجوز لأحد أن یتصرف في ملك غیره بلا إذنه أو وکالة منه أو ولایة علیه، وإن فعل کان ضامنًا." (شرح المجلة،سليم رستم باز، ج:1، ص:61، مادة: 96)


فتویٰ نمبر : 3568/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں