بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

مبیع مجہول ہونے کی صورت بیع کا حکم


سوال

ہمارےعلاقے کی مٹی میں قیمتی پتھر نکلتے ہیں باہر سے لوگ آکر ہمیں کہتے ہیں کہ ہم آپ کی زمین میں اپنے لیے پتھر ڈھونڈتے ہیں یعنی زمین میں کام کرکے اپنے لیے قیمتی پتھر نکالتے ہیں اور آپ کو گھنٹہ کے حساب سے پیسے دیتے ہیں مطلب ایک گھنٹہ کام کرکے ہمیں گھنٹہ کےہزار روپے دیتے ہیں باقی پھر ان کا کام ہے کہ وہ گھنٹے میں اپنے لیے پانچ ہزار کے پتھر نکالتے ہیں یا کچھ بھی نہیں، تو کیا شرعاً اس طرح معاملہ کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عقد بیع کی صحت جن شرائط پر موقوف ہے، ان میں سے  ایک شرط یہ بھی ہے کہ مبیع اور ثمن اس طرح معلوم ہوں کہ بعد میں کسی قسم کا نزاع نہ ہو، لہذا اگران میں سے ایک بھی مجہول ہو توبیع فاسد ہوگی۔

صورت مسئولہ میں مبیع( قیمتی پتھر) مجہول ہے  کیونکہ ممکن ہے کہ ایک گھنٹہ میں کام کرکے زیادہ پتھر نکلیں اوریہ بھی ممکن ہے کہ کوئی پتھر نہ نکلے، لہذا یہ بیع جائز نہیں۔

 

(‌ومنها) ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما ‌وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود. (بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج:5، ص:156)

 


فتویٰ نمبر : 3570/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں